یوکرین کے خلاف روس کی جنگ میں ایک اور خوفناک باب کا اضافہ ہوا ہے جب اتوار اور پیر کی درمیانی شب کئی بڑے شہروں پر میزائلوں اور ڈرونز کی بارش کی گئی۔ روسی فوج نے مجموعی طور پر 70 میزائل اور 611 ڈرون داغے، جن میں سے ایک بڑے حملے نے دارالحکومت کیف کے ایک مشہور تاریخی آرتھوڈوکس گرجا گھر کو نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں عمارت کے کچھ حصے تباہ اور آگ بھڑک اٹھی۔
یوکرینی حکام کے مطابق، پیر 15 جون کو ہونے والے ان حملوں میں کم از کم نو شہری جان کی بازی ہار گئے، جن میں چار افراد کیف اور پانچ خارکیف میں مارے گئے۔
صنعتی تنصیبات کو نشانہ بنانے کا دعویٰ
روسی وزارت دفاع نے ٹیلی گرام پر جاری ایک بیان میں کہا کہ ان کی مسلح افواج نے کیف، خارکیف اور دنیپرو میں “فوجی صنعت کے ٹھکانوں، عسکری ہوائی اڈوں اور لاجسٹک مراکز” کے خلاف “طویل فاصلے تک مار کرنے والے اعلیٰ درستگی والے ہتھیاروں اور ڈرونز سے بڑے پیمانے پر حملہ کیا۔” بیان میں دعویٰ کیا گیا کہ “حملے کے تمام اہداف حاصل کر لیے گئے اور نشانے پر لگے۔” روس نے یہ کارروائی یوکرین کی جانب سے روسی سرزمین پر حملوں کا جواب قرار دیا ہے۔
یونیسکو عالمی ورثہ خطرے میں
کیف کے میئر ویٹالی کلِٹشکو نے بتایا کہ روسی حملے کے بعد یونیسکو کے عالمی ثقافتی ورثے میں شامل کیف پیچرسک لاورا کمپلیکس کے ڈورمیشن کیتھیڈرل کی چھت میں آگ لگ گئی۔ اے ایف پی کے ایک فوٹوگرافر نے موقع سے بتایا کہ گرجا گھر کا اگواڑہ بری طرح متاثر ہوا، اس کی چھت جزوی طور پر تباہ ہو گئی اور آگ بجھانے کے لیے درجن سے زائد فائر انجن تعینات کیے گئے۔
یوکرین کے آرتھوڈوکس چرچ کے سربراہ، میٹروپولیٹن ایپیفین نے اس حملے کو “انسانیت، تاریخ اور مسیحیت کے خلاف جرم” قرار دیا۔ فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے بھی سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ردعمل دیتے ہوئے لکھا: “چار سال سے زائد عرصے سے یوکرین کے خلاف روس کی جارحیت کی جنگ کی طرح، ہمارے عالمی ورثے پر اس حملے کا کوئی جواز نہیں ہے۔” انہوں نے مزید کہا کہ “فرانس ثقافتی ورثے کی ذمہ دار یوکرینی حکام کے ساتھ تعاون کے لیے تی ہے۔”
خارکیف اور دنیپرو بھی لرز اٹھے
شمال مشرقی یوکرین کے بڑے شہر خارکیف پر بھی میزائلوں سے حملے کیے گئے۔ وزیر داخلہ ایہور کلیمینکو نے ٹیلی گرام پر بتایا کہ “آگ بجھانے میں مصروف ریاستی ہنگامی خدمات کے پانچ امدادی کارکن روس کے مسلسل حملوں میں مارے گئے، جبکہ کم از کم پانچ دیگر زخمی ہوئے ہیں۔” مشرقی دنیپروپیٹروسک علاقے کی فوجی انتظامیہ کے سربراہ اولیکسینڈر گانزہا نے اعلان کیا کہ دنیپرو شہر کو بھی نشانہ بنایا گیا، جہاں ایک شخص زخمی ہوا ہے۔
روسی سرزمین پر بھی ڈرون حملے
دوسری جانب، روسی حکام نے بھی اپنی سرزمین پر حملوں کی اطلاع دی ہے۔ ماسکو سے تقریباً 200 کلومیٹر جنوب میں واقع تولا شہر کے گورنر دیمتری ملیائیف نے ٹیلی گرام پر بتایا کہ ڈرون حملے میں کم از کم تین افراد ہلاک اور تین دیگر زخمی ہو گئے، جن میں “ایک سال کا ایک بچہ” بھی شامل ہے۔
امن کی کوششیں اور بے نتیجہ مذاکرات
چار سال سے زائد عرصے سے جاری اس تنازعے میں ابھی تک کوئی پائیدار جنگ بندی ممکن نہیں ہو سکی، حالانکہ حالیہ مہینوں میں کئی دور کے مذاکرات ہو چکے ہیں۔ روس روزانہ اپنے پڑوسی ملک پر بمباری جاری رکھے ہوئے ہے، جبکہ کیف روسی سرزمین پر توانائی کے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بناتے ہوئے ڈرون حملوں میں اضافہ کر رہا ہے۔
اتوار کو یوکرینی صدر ولادیمیر زیلنسکی اور روسی صدر ولادیمیر پوتن نے اپنے امریکی ہم منصب ڈونلڈ ٹرمپ کو ان کی 80ویں سالگرہ پر فون کیا۔ زیلنسکی نے بتایا کہ انہوں نے “فوری طور پر امن کے قیام میں مددگار اقدامات” پر تبادلہ خیال کیا۔ کریملن کے مطابق پوتن اور ٹرمپ کی گفتگو “بنیادی طور پر” ایران کے ساتھ امن مذاکرات پر مرکوز رہی۔ تاہم، کریملن کے مشیر یوری اوشاکوف نے بتایا کہ اس بات پر “اتفاق” ہوا ہے کہ امریکی صدر کے نمائندے اسٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر “جلد ہی روس واپس آئیں گے۔”
اس کے باوجود، زیلنسکی اور پوتن کے درمیان براہ راست ملاقات کا امکان اب بھی بہت دور کی بات ہے۔ زیلنسکی نے پوتن کے نام ایک طویل کھلے خط میں اس جنگ سے نکلنے کے لیے براہ راست بات چیت کا مطالبہ کیا ہے۔
