وزیر خزانہ اورنگزیب نے واشنگٹن میں اعلان کیا
واشنگٹن: سعودی عرب نے پاکستان کے لیے 3 ارب ڈالر کی اضافی مالی معاونت کا وعدہ کیا ہے جس کی ادائیگی اگلے ہفتے متوقع ہے، جبکہ موجودہ 5 ارب ڈالر کی ڈپازٹ کی میعاد میں بھی توسیع کردی گئی ہے۔ وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے بدھ کو یہ اعلان کرتے ہوئے کہا کہ یہ امداد پاکستان کی بیرونی مالی ضروریات کے لیے انتہائی اہم وقت پر آئی ہے۔
بیرونی اکاؤنٹ کو مضبوط بنانے میں معاون
وزیر خزانہ نے واشنگٹن میں عالمی بینک اور آئی ایم ایف کے بہاراتی اجلاسوں کے موقع پر صحافیوں سے بات چیت میں کہا کہ تازہ سعودی معاونت سے زرمبادلہ کے ذخائر میں اضافہ ہوگا اور بیرونی اکاؤنٹ مزید مضبوط ہوگا۔ یہ ترقی اس وقت سامنے آئی ہے جب پاکستان متحدہ عرب امارات کو تقریباً 3 ارب ڈالر کے قرض کی واپسی کی تیاری کر رہا ہے۔
یو اے ای قرض کی واپسی اور ذخائر پر دباؤ
رپورٹس کے مطابق پاکستان سات سال میں پہلی بار متحدہ عرب امارات کے ساتھ قرض کی تجدید پر معاہدہ نہیں کر سکا۔ اسلام آباد اب اس رقم کی ادائیگی اس مہینے کے آخر تک کرے گا، جس سے اس کے زرمبادلہ کے ذخائر پر نمایاں دباؤ پڑے گا۔ فی الحال ذخائر تقریباً 16 ارب ڈالر ہیں جو صرف تین ماہ کی درآمدات کو پورا کرنے کے لیے کافی ہیں۔
آئی ایم ایف ہدف کے مطابق ذخائر بڑھانے کا عزم
وزیر خزانہ نے واضح کیا کہ حکومت آئی ایم ایف کے زیر حمایت پروگرام کے تحت اپنے فرائض کے مطابق ذخائر برقرار رکھنے پر پرعزم ہے۔ موجودہ مالی سال کے اختتام تک تقریباً 18 ارب ڈالر یعنی 3.3 ماہ کی درآمداتی کور تک پہنچنے کا ہدف ہے۔
5 ارب ڈالر کی ڈپازٹ میں طویل مدتی توسیع
اورنگزیب نے یہ بھی انکشاف کیا کہ موجودہ 5 ارب ڈالر کی سعودی ڈپازٹ اب سالانہ تجدید کے انتظامات کے تابع نہیں رہے گی بلکہ اس کی میعاد میں طویل مدتی توسیع کردی گئی ہے، جس سے زیادہ مالی استحکام میسر آئے گا۔
یورو بانڈ کی ادائیگی کو ‘غیر واقعہ’ قرار دیا
حالیہ ترقیات پر روشنی ڈالتے ہوئے وزیر خزانہ نے کہا کہ پاکستان نے گزشتہ ہفتے اپنے 1.4 ارب ڈالر کے یورو بانڈ کی کامیابی سے ادائیگی کی ہے۔ انہوں نے اس لین دین کو ایک ‘غیر واقعہ’ قرار دیتے ہوئے حکومت کے عزم کی تصدیق کی کہ تمام آنے والی بیرونی ذمہ داریاں وقت پر ایک واضح اور منظم مالیاتی منصوبے کے تحت پوری کی جائیں گی۔
سعودی قیادت کا شکریہ اور بین الاقوامی اعتماد
وزیر نے سعودی قیادت، خاص طور پر ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان، وزیر خزانہ محمد الجadaan اور سعودی نائب وزیر خزانہ کی مسلسل حمایت اور تعاون کا شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ پاکستان کو آئی ایم ایف، عالمی بینک اور ادارہ جاتی سرمایہ کاروں سمیت بین الاقوامی مالیاتی اداروں سے بڑھتا ہوا اعتماد حاصل ہو رہا ہے۔
مستقبل کی مالیاتی حکمت عملی
اورنگزیب نے بتایا کہ پاکستان اپنی وسیع تر بیرونی مالیاتی حکمت عملی پر کام کر رہا ہے، جس میں گلوبل میڈیم ٹرم نوٹ پروگرام اور اپنی پہلی پانڈا بانڈ جاری کرنے کے منصوبے شامل ہیں۔ ان کا مقصد فنڈنگ کے ذرائع میں تنوع لانا اور مارکیٹ تک رسائی بڑھانا ہے۔
ماکرو اکنامک استحکام کا عہد
اپنے اختتامی remarks میں وزیر خزانہ نے حکومت کی میکرو اکنامک استحکام، اصلاحات کے تسلسل، بروقت قرض کی ادائیگی اور دو طرفہ و کثیر جہتی شراکت داروں کے ساتھ مسلسل مشغولیت کے عزم کی تصدیق کی۔ انہوں نے کہا کہ ان کے دورے کے اختتام پر تفصیلی میڈیا بریفنگ ہوگی۔
