تولون: فرانس کی بحریہ اگلے ماہ اپنی سب سے بڑی اور اہم ترین نیول بیس تولون پر نگرانی کا ایک نیا طریقہ آزمائے گی۔ یہ تجربہ ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب یورپ اور فرانس میں روس کے ساتھ براہ راست تصادم کے خدشات بڑھ رہے ہیں اور فوجی تنصیبات کی سیکیورٹی سب سے بڑی تشویش بنی ہوئی ہے۔
فرانسیسی اخبار نیس ماٹن کے مطابق، بحریہ ایک کیپٹیو بیلون (رسی سے بندھا ہوا غبارہ) تولون نیول بیس کے اوپر تعینات کرے گی۔ یہ بیس یورپ کا سب سے بڑا فوجی بندرگاہ ہے جو رقبے اور ٹن وزن کے لحاظ سے پہلے نمبر پر ہے۔ یہیں فرانس کے نیوکلیئر اٹیک سب میرینز کا مرکز ہے اور مستقبل میں نئے طیارہ بردار جہاز فرانس لبرے کی میزبانی بھی یہیں ہوگی جو چارلس ڈی گال کی جگہ لے گا۔
ڈرون کے بڑھتے ہوئے خطرے سے نمٹنے کی کوشش
تولون میں میری ٹائم پریفیکچر نے تصدیق کی ہے کہ یہ غبارہ قریب آنے والے ڈرونز کا پتہ لگانے کے لیے استعمال ہوگا۔ ان میں سیاحوں کے شوقیہ ڈرون بھی شامل ہیں اور ممکنہ طور پر جارحانہ قسم کے ڈرون بھی۔ گزشتہ برسوں میں جیسے جیسے ڈرون ٹیکنالوجی میں بہتری آئی ہے اور حساس مقامات پر انتباہات میں اضافہ ہوا ہے، حکام نے جاسوس ڈرونز اور خاموشی سے حملہ کرنے والے مہلک ڈرونز کے بڑھتے ہوئے خطرے کو سنجیدگی سے لینا شروع کر دیا ہے۔
مارچ 2025 میں فرانسیسی بحریہ نے پہلے ہی ایک کیپٹیو بیلون کا تجربہ کیا تھا، جو مشق ڈریگن فیوری کے دوران ایک ایمفیبیئس ہیلی کاپٹر کیریئر سے اڑایا گیا تھا۔ اگلے ماہ جو ماڈل استعمال ہوگا وہ کمپنی اے-این ایس ای نے ڈیزائن کیا ہے۔
چالیس دن تک مسلسل نگرانی کی صلاحیت
لا سیوٹاٹ میں قائم کمپنی ایرو-ناٹک سروسز اینڈ انجینئرنگ نے ایک ایسا ایروسٹیٹ تیار کیا ہے جو 300 کلوگرام تک کا سامان اٹھا سکتا ہے۔ اس میں کیمرے، جیمرز اور ریڈار شامل ہو سکتے ہیں۔ یہ غبارہ 1500 میٹر کی بلندی تک جا سکتا ہے اور بغیر رکے چالیس دن تک فضا میں معلق رہنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
یہ نیا نظام تولون کی بندرگاہ کی معاشی اہمیت کو بھی ظاہر کرتا ہے۔ بندرگاہ نہ صرف شہر بلکہ پورے علاقے کی معیشت کو سہارا دیتی ہے۔ نئے نیوکلیئر اٹیک سب میرینز کو ایڈجسٹ کرنے کے لیے بندرگاہ پر نئے ڈاکس کی تعمیر مکمل ہو چکی ہے، اور جلد ہی نئے طیارہ بردار جہاز کے لیے بھی اسی طرح کا منصوبہ شروع ہونے والا ہے۔
یہ تجربہ فرانس کی جانب سے اپنی اہم فوجی تنصیبات کے تحفظ کے لیے جدید ٹیکنالوجی اپنانے کے عزم کا واضح اشارہ ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب فضائی خطرات میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔
