واشنگٹن: 28 فروری 2026 کو ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے خلاف “بڑے پیمانے پر آپریشن” کا اعلان کیا تھا، جس کا مقصد “ایرانی حکومت کے فوری خطرات کو ختم کرکے امریکی عوام کا دفاع” تھا۔ اس دن امریکہ اور اسرائیل نے مشترکہ طور پر آپریشن “ایپک فیوری” شروع کیا، جس کا ابتدائی جواز ایران کے جوہری پروگرام کو دفن کرنا اور حکومت کو کچلنا تھا۔ جوابی کارروائی میں ایران نے انتہائی اسٹریٹجک آبنائے ہرمز بند کر دی۔
چھ ماہ بعد، امریکہ ایک ایسے لامتناہی تنازع میں پھنس چکا ہے جس کا کوئی واضح انجام نظر نہیں آتا، اور یہ غیر یقینی صورتحال وسط مدتی انتخابات سے چند ہفتے قبل ریپبلکن کیمپ کے لیے سیاسی طور پر پریشان کن بن چکی ہے۔ یہ بے چینی خود ڈونلڈ ٹرمپ کے متضاد بیانات سے مزید ہوا دے رہی ہے، جو ایران جنگ کے بارے میں کبھی کچھ کہتے ہیں اور کبھی کچھ۔
مختصر مدت کا وعدہ جو طویل جنگ بن گئی
یہ سلسلہ 9 مارچ کو شروع ہوا، امریکی حملے کے تقریباً دس دن بعد۔ فلوریڈا کے شہر ڈورل میں خطاب کرتے ہوئے ٹرمپ نے اپنی “زبردست فوج” کی کارکردگی کو سراہا اور یقین دلایا کہ “یہ صرف ایک مختصر مدت کی کارروائی ہوگی۔”
لیکن تنازع دلدل میں پھنستا چلا گیا۔ ٹرمپ ایران کے ساتھ کسی ممکنہ معاہدے کے حوالے سے مسلسل متضاد بیانات دیتے رہے۔ 25 مارچ کو امریکہ نے ایران کو 15 نکاتی منصوبہ پیش کیا، جو مذاکرات کا نقطہ آغاز تھا۔ ایک ہفتے سے بھی کم عرصے بعد، 31 مارچ کو اوول آفس میں پریس بریفنگ کے دوران انہوں نے دعویٰ کیا کہ “امریکہ دو ہفتوں میں جنگ ختم کر دے گا۔”
تاہم اگلے ہی دن ٹرمپ کا لہجہ یکسر بدل گیا۔ جو شخص ایران سے نکلنے کی بات کر رہا تھا، وہ چند گھنٹوں بعد مزید سخت حملوں کی دھمکی دینے لگا۔ “ہم انہیں پتھر کے دور میں واپس لے جائیں گے، جہاں ان کا تعلق ہے،” انہوں نے پختہ لہجے میں اعلان کیا۔
ناممکن معاہدہ اور آبنائے ہرمز کا بحران
ٹرمپ کی یہ دھمکی آمیز زبان دراصل اس مسئلے کو حل نہ کر پانے کی مایوسی کا عکاس تھی جو انہوں نے خود پیدا کیا تھا: آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنا۔ تعطل کا شکار ہو کر انہوں نے الٹی میٹم جاری کیا کہ یا تو آبنائے کھولی جائے یا وہ “ایران کو تباہ کر دیں گے۔” 8 اپریل کو امریکی صدر نے دو ہفتے کی جنگ بندی کے نفاذ کا اعلان کیا۔
اپنے سوشل نیٹ ورک ٹروتھ پر انہوں نے ایران کے خلاف بمباری اور حملوں کی معطلی کا اعلان کیا، “بشرطیکہ آبنائے ہرمز کی مکمل، فوری اور محفوظ کھلائی کا معاہدہ ہو۔” 21 اپریل کو ٹرمپ نے جنگ بندی میں توسیع کر دی۔ اس کے بعد سے امریکی صدر کے منہ پر صرف ایک لفظ ہے: معاہدہ۔ وہ اپنی شرائط پر تنازع سے نکلنا چاہتے ہیں، جبکہ 60 فیصد سے زائد امریکی ایران کے خلاف طاقت کے استعمال کو “غلطی” قرار دیتے ہیں۔
جون اور اگست کے درمیان ٹرمپ کے مختلف بیانات مل کر ایک رولر کوسٹر کی تصویر پیش کرتے ہیں، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ مذاکرات اب بھی تعطل کا شکار ہیں۔
اقتصادی ڈی ڈے اور پابندیوں کی نئی حکمت عملی
پہلے میزائل داغے جانے کے چھ ماہ بعد، ڈونلڈ ٹرمپ ایک ایسی صورتحال میں پھنس چکے ہیں جس کا کوئی واضح راستہ نظر نہیں آتا۔ وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ کے مطابق اس تنازع پر امریکہ کو 37.5 ارب ڈالر سے زائد لاگت آ چکی ہے، اور یہ مالی طور پر ایک گڑھا بنتا جا رہا ہے۔
اپنے مقاصد حاصل کرنے کے لیے امریکی صدر نے ایک نئی حکمت عملی اپنانے کا فیصلہ کیا ہے۔ ٹروتھ سوشل پر انہوں نے “اقتصادی ڈی ڈے” کا اعلان کیا، جس کی تعریف “بے مثال اقتصادی جنگ اور تنہائی” کے نفاذ سے کی گئی ہے۔
امریکی حکومت اب ایران کی اقتصادی وسائل کا گلا گھونٹ کر اسے دم توڑنے پر مجبور کرنا چاہتی ہے، اور تہران کی حمایت جاری رکھنے والے ممالک کو بھی ایسی ہی پابندیوں کی دھمکی دے رہی ہے۔ وزیر خزانہ اسکاٹ بیسینٹ نے کہا کہ “اس تنازع کے سائے میں کام جاری رکھنا اب قابل قبول نہیں،” تاہم انہوں نے یہ واضح نہیں کیا کہ یہ پابندیاں کب نافذ ہوں گی یا کون سے ممالک امریکی ہدف بن سکتے ہیں۔
پٹرول کی بڑھتی قیمتیں اور انتخابی دباؤ
اس نئی حکمت عملی کے باوجود ٹرمپ انتظامیہ ایران تنازع کو جلد از جلد ختم کرنا چاہتی ہے، کیونکہ اس کے سیاسی اثرات ریپبلکنز کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتے ہیں۔
امریکہ میں جنگ کے اثرات پٹرول کی قیمتوں پر واضح نظر آ رہے ہیں، جو کئی مہینوں سے 4 ڈالر فی گیلن کے قریب منڈلا رہی ہیں۔ جنگ سے پہلے یہ قیمت 2.98 ڈالر تھی۔ یہ اضافہ نومبر میں ہونے والے وسط مدتی انتخابات کے اہم موضوعات میں شامل ہو چکا ہے، اور ڈیموکریٹ امیدوار اپنی مہم میں اسے استعمال کر رہے ہیں۔ مشی گن میں عبدل السید نے ایک اشتہار میں “ڈونلڈ ٹرمپ کی 200 ارب ڈالر کی جنگ” کو نشانہ بنایا، جبکہ جارجیا کے سینیٹر اور اپوزیشن کے ابھرتے ہوئے چہرے جون اوسوف کا کہنا ہے کہ امریکی صدر نے “امریکہ کو کمزور اور کم محفوظ بنا دیا ہے۔”
دوسری جانب ریپبلکنز کو خدشہ ہے کہ قیمتوں میں یہ اضافہ انتخابات میں انہیں بھگتنا پڑ سکتا ہے۔ اگر ٹرمپ اس کا کوئی حل پیش نہیں کرتے تو وہ کانگریس میں اپنی اکثریت کھو سکتے ہیں، جس کے ان کی صدارت کے آخری دور پر سنگین اثرات مرتب ہوں گے۔
