عالمی رہنماؤں نے امریکہ اور ایران کے درمیان طے پانے والے امن معاہدے کو ایک بڑی سفارتی کامیابی قرار دیتے ہوئے اس کا خیرمقدم کیا ہے۔ انہوں نے خطے میں دشمنی کے خاتمے کی کوششوں کو اجاگر کرتے ہوئے اس مذاکراتی عمل کو آسان بنانے میں پاکستان کے کردار کو خصوصی طور پر سراہا ہے۔
امریکی اور ایرانی حکام نے اتوار کو اعلان کیا تھا کہ انہوں نے اپنی جنگ کے خاتمے، ایران کی امریکی ناکہ بندی کو روکنے اور آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کے لیے ایک فریم ورک پر اتفاق کر لیا ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے ٹروتھ سوشل پلیٹ فارم پر اس معاہدے کی تکمیل کی تصدیق کی۔ ان کے یہ بیانات وزیراعظم شہباز شریف کے اس اعلان کے فوراً بعد سامنے آئے جس میں انہوں نے پیر کی صبح مقامی وقت کے مطابق معاہدہ طے پانے کی اطلاع دی تھی۔ مفاہمت کی اس یادداشت پر باضابطہ طور پر جمعہ کو سوئٹزرلینڈ میں دستخط کیے جانے ہیں۔
عالمی برادری کا ردعمل
اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس نے اس معاہدے کو تنازعے کے خاتمے اور پرامن تصفیے کی جانب ایک اہم پیش رفت قرار دیا ہے۔ انہوں نے فوری اور مستقل جنگ بندی، آبنائے ہرمز کی بحالی اور مزید مذاکرات کے فریم ورک پر واشنگٹن اور تہران کو مبارکباد پیش کی۔ گوتریس نے پاکستان، قطر، مصر، سعودی عرب، ترکی اور دیگر علاقائی ممالک کے تعمیری کردار کی بھی گہری تعریف کی۔
ترکی کے صدر رجب طیب ایردوان نے اس معاہدے کو علاقائی امن اور استحکام کے لیے ایک اہم پیش رفت قرار دیا۔ انہوں نے پاکستان کی “غیر معمولی ثالثی کوششوں” کو سراہتے ہوئے امریکہ اور ایران کی قیادت کو بھی تسلیم کیا۔
برطانوی وزیراعظم کیئر سٹارمر نے اس پیش رفت کو جنگ کے خاتمے اور آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کی جانب ایک بہت بڑا قدم قرار دیا۔ انہوں نے صدر ٹرمپ اور پاکستان سمیت ثالثوں کو مبارکباد دی۔
فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے معاہدے کا خیرمقدم کرتے ہوئے اس پر فوری اور غیر مشروط عملدرآمد کی اپیل کی۔ انہوں نے کہا کہ اس معاہدے سے آبنائے ہرمز کو فوری طور پر کھولنے کی راہ ہموار ہونی چاہیے۔
قطری وزیراعظم شیخ محمد بن عبدالرحمن بن جاسم الثانی نے مفاہمت کی یادداشت کا خیرمقدم کرتے ہوئے پاکستان اور دیگر فریقین کے کردار کو سراہا جنہوں نے اس معاہدے کے لیے سازگار حالات پیدا کرنے میں مدد فراہم کی۔
جرمن چانسلر فریڈرش مرز نے اس سفارتی کامیابی پر صدر ٹرمپ اور ایرانی فریق کو مبارکباد پیش کی اور اسے عالمی معیشت اور محفوظ مشرق وسطیٰ کی جانب ایک راستہ قرار دیا۔
آسٹریلیا، جاپان اور نیوزی لینڈ کے رہنماؤں نے بھی اس معاہدے کو تناؤ میں کمی اور استحکام کے فروغ کی جانب ایک اہم قدم قرار دیتے ہوئے ثالثی کوششوں کو سراہا۔
پابندیوں کے خاتمے کی تیاری
دوسری جانب، برطانیہ، فرانس، جرمنی اور اٹلی پر مشتمل ای 4 ممالک نے ایک مشترکہ بیان میں کہا ہے کہ وہ ایران کے جوہری پروگرام کے حوالے سے اٹھائے گئے اقدامات کے جواب میں اس پر سے پابندیاں اٹھانے کے لیے تیار ہیں۔ رہنماؤں نے زور دے کر کہا کہ ایران کو کبھی بھی جوہری ہتھیار حاصل نہیں کرنے چاہئیں اور وہ اس مقصد کے لیے امریکہ، ایران اور عالمی ادارہ برائے جوہری توانائی کے ساتھ مل کر کام کرنے کے لیے تیار ہیں۔
