# یاسین ملک کا عدالت میں بڑا اعلان، کیس لڑنے سے انکار اور کشمیر کے لیے سزائے موت قبول
سرینگر (ڈیلی نیوز) – کشمیری رہنما یاسین ملک نے کہا ہے کہ انہیں بھارتی عدالتوں سے انصاف کی توقع نہیں ہے اور کشمیر کے لیے سزائے موت بھی قابل قبول ہے۔ انہوں نے عدالتی کارروائی کو سیاسی انتقام قرار دیتے ہوئے مزید کیس لڑنے سے انکار کر دیا۔
## عدالت میں 25 صفحات پر مشتمل حلف نامہ جمع
ذرائع کے مطابق یاسین ملک نے سرینگر کی عدالت میں 25 صفحات پر مشتمل حلف نامہ جمع کرایا ہے۔ اس حلف نامے میں انہوں نے واضح کیا کہ وہ اپنے خلاف جاری مقدمے کی مزید پیروی نہیں کریں گے اور معاملہ خدا کے سپرد کرتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ بھارتی حکومت نے انہیں جھوٹے مقدمے میں پھنسایا ہے تاکہ 36 سال بعد انہیں پھانسی دی جا سکے۔
## سرلا بھٹ قتل کیس میں الزامات کی تردید
یاسین ملک نے 1990 میں کشمیری پنڈت خاتون سرلا بھٹ کے قتل کے الزام کی سختی سے تردید کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ سرلا بھٹ کے قتل سے 11 دن قبل وہ زخمی تھے، اس لیے قتل کی منصوبہ بندی یا ہدایات دینا ممکن نہیں تھا۔
## سیاسی انتقام کے خلاف احتجاج
حلف نامے میں یاسین ملک نے لکھا ہے کہ انہوں نے سیاسی انتقام کے خلاف احتجاجاً مزید کیس لڑنے سے انکار کیا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ عدالتی سزا قبول کرنے کا مطلب جرم کا اعتراف نہیں ہے۔
## جے کے ایل ایف نوٹ کا معاملہ
یاسین ملک نے ان بنیادوں کو بھی چیلنج کیا جن کی بنا پر انہیں اس مقدمے سے جوڑا گیا۔ ان کا حوالہ جموں و کشمیر لبریشن فرنٹ (جے کے ایل ایف) کے نام نہاد نوٹ سے تھا جو مبینہ طور پر سرلا بھٹ کی لاش کے قریب سے برآمد ہوا تھا۔
## بھارتی ایجنسیوں پر سنگین الزام
اپنے حلف نامے میں یاسین ملک نے الزام عائد کیا کہ بھارتی تفتیشی ایجنسیوں نے انہیں پاکستان سے تعلقات استوار کرنے کی ہدایت کی تھی لیکن بعد میں اسی معاملے کو ان کے خلاف ثبوت کے طور پر استعمال کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ کارروائی سیاسی طور پر محرک ہے اور انہیں بھارتی نظام عدل سے منصفانہ ٹرائل کی توقع نہیں ہے۔
## گرفتاری اور مقدمے کی تاریخ
بھارتی فورسز نے یاسین ملک کو 10 اپریل 2019 کو سرینگر میں گرفتار کیا تھا۔ بعد ازاں ان پر 1990 میں ایک نرس کے اغوا اور قتل میں ملوث ہونے کا الزام عائد کیا گیا۔ یاسین ملک کشمیر کی آزادی کی جدوجہد کی علامت سمجھے جاتے ہیں اور ان کی گرفتاری کے بعد سے انسانی حقوق کی تنظیمیں ان کے خلاف کارروائی کو تشویشناک قرار دیتی رہی ہیں۔
