پیرس کے چودہویں ضلع میں جمعہ کی شام ایک المناک واقعہ پیش آیا جس میں 14 سالہ ایلیاس نامی نوجوان کو موبائل فون چھیننے کی کوشش میں چھری گھونپ دی گئی۔ حملہ آوروں نے نوجوان کے کندھے کے قریب وار کیا جس کے بعد ایلیاس کو ہسپتال منتقل کیا گیا، لیکن وہ اپنی جان بچانے میں ناکام رہا اور ہفتے کو اس کی موت ہو گئی۔
واقعہ اس وقت پیش آیا جب ایلیاس اور اس کا دوست پیرس کے چودہویں ضلع میں واقع جولس-نوئل اسپورٹس سینٹر سے باہر نکل رہے تھے۔ دو نوجوانوں نے انہیں روکا اور ایلیاس سے اس کا موبائل فون مانگا۔ جب ایلیاس نے انکار کیا تو حملہ آوروں میں سے ایک نے چھری نکال کر اس کے دائیں کندھے کے قریب وار کر دیا۔ ایلیاس زمین پر گر گیا جبکہ حملہ آور بغیر موبائل فون لیے فرار ہو گئے۔
ایلیاس کو فوری طور پر ہسپتال منتقل کیا گیا جہاں اس کے اندرونی زخموں کی وجہ سے خون بہنے لگا اور اس کا دل کئی بار رک گیا۔ ہفتے کو دوپہر کے وقت اس کی موت کی تصدیق ہو گئی۔ ایلیاس کا 15 واں یوم پیدائش 10 فروری کو ہونا تھا۔
پولیس نے واقعے کے بعد فوری کارروائی کرتے ہوئے دو مشتبہ افراد کو گرفتار کر لیا۔ یہ دونوں نوجوان، جن کی عمریں 16 اور 17 سال ہیں، چودہویں ضلع میں رہائش پذیر ہیں اور پہلے بھی چوری اور تشدد کے واقعات میں ملوث رہ چکے ہیں۔ انہیں حراست میں لے لیا گیا ہے اور تفتیش جاری ہے۔
ایلیاس پیرس کے مونٹائن کالج میں نویں جماعت کا طالب علم تھا اور پٹرے اولیئر نامی فٹ بال کلب کا رکن تھا۔ اس کی موت کی خبر سن کر کلب کے ارکان اور اساتذہ میں صدمہ پھیل گیا۔ چھٹے ضلع کے میئر ژاں-پیر لیکوک نے اس واقعے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اس المناک واقعے کی مکمل تفتیش کی جائے اور مجرموں کو سخت سزا دی جائے۔
یہ واقعہ پیرس میں نوجوانوں کے درمیان تشدد کے بڑھتے ہوئے رجحان کی ایک اور المناک مثال ہے۔ ایلیاس کی موت نے پورے علاقے میں غم اور غصے کی لہر دوڑا دی ہے۔ پولیس نے واقعے کے مقام کا معائنہ کیا ہے اور مزید شواہد اکٹھے کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
ایلیاس کے خاندان اور دوستوں کو اس المناک واقعے سے شدید صدمہ پہنچا ہے۔ اس کی موت نے نہ صرف اس کے اہل خانہ بلکہ پورے علاقے کو سوگوار کر دیا ہے۔ ابھی تک یہ واضح نہیں ہو سکا کہ حملہ آوروں نے ایلیاس کو کیوں نشانہ بنایا، لیکن اس واقعے نے پیرس میں نوجوانوں کی حفاظت کے حوالے سے نئے سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔
