geourdu logo
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    • کالم
    • صحت و تندرستی
    • دلچسپ اور عجیب
    • سائنس اور ٹیکنالوجی
    • Geo Team
  • دیگر
    • أوقات الصلاة
    • بچوں کے نام
      • مسلم
      • عیسائی
      • ہندو
    • فنانس
  • شاعری
Dark Mode
Skip to content
April 29, 2026
  • Geo Urdu France
  • Prayer Times
  • Finance
  • Currency Rate
  • Gold Rates
  • ENGLISH
  • –
  • FRENCH
geourdu logo
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    کالم
    • 83% of French Parents Report Verbally Abusing Their Childrenفرانس میں والدین کی بڑی تعداد بچوں کے ساتھ تشدد کا اعتراف، نئی رپورٹ میں ہوش ربا انکشافات
    • Why Turkey Eggs Are Rarely on Our Platesکیا آپ نے کبھی ترکی کے انڈے کھائے ہیں؟ غذائیت سے بھرپور مگر بازار میں نایاب
    • Crushed Empress Eugénie's Crown Revealed After Louvre Heistلوور میوزیم نے شہنشاہ نگار کے تاریخی تاج کی تباہ حال تصاویر جاری کردیں
    صحت و تندرستی
    • Pakistan Cracks Down on Unsafe Syringes Amid HIV Surgeایچ آئی وی کے بڑھتے کیسز: ڈریپ کا غیر محفوظ سرنجوں کے خلاف ملک گیر کریک ڈاؤن کا حکم
    • France Launches Spring COVID-19 Booster Campaign for Most Vulnerableفرانس میں موسم بہار کے لیے نئی کورونا ویکسینیشن مہم کا آغاز، بوڑھوں اور کمزور افراد کو ترجیح
    • Pakistan's HIV Crisis: Unsafe Injections Fuel 500% Death Surgeانجیکشن کلچر اور ناقص نفاذ نے پاکستان میں ایچ آئی وی کے پھیلاؤ کو ہوا دی
    دلچسپ اور عجیب
    • Humanoid Robots Shatter World Record in Half-Marathonانسانی روبوٹس نے نصف میراتھن کا عالمی ریکارڈ توڑ دیا، چین میں انقلابی پیشرفت
    • Train Travel's Hidden Benefit: Stress Relief Through Sceneryٹرین کے سفر میں مناظر کو دیکھنا ذہنی صحت کے لیے مفید، نئی تحقیق میں انکشاف
    • 83% of French Parents Report Verbally Abusing Their Childrenفرانس میں والدین کی بڑی تعداد بچوں کے ساتھ تشدد کا اعتراف، نئی رپورٹ میں ہوش ربا انکشافات
    سائنس اور ٹیکنالوجی
    • Elon Musk Summoned by French Justice in X Investigationایلون مسک: فرانسیسی عدالت کے سامنے پیشی کا نوٹس اور ایکس کے خلاف تحقیقات
    • Humanoid Robots Shatter World Record in Half-Marathonانسانی روبوٹس نے نصف میراتھن کا عالمی ریکارڈ توڑ دیا، چین میں انقلابی پیشرفت
    • EU's Age Verification App "Technically Ready" to Block Minorsیورپی یونین کا عمر کی تصدیق کرنے والا ایپ تیار، پندرہ سال سے کم عمر بچوں کو سوشل میڈیا سے روکنے کی تیاری
    Geo Team
  • دیگر
    أوقات الصلاة
    بچوں کے نام
    • مسلم
    • عیسائی
    • ہندو
    فنانس
  • شاعری

ایرانی جرنیل کی شہادت عالمی سانحہ

January 6, 2020 0 1 min read
General Qasem Soleimani
Share this:

General Qasem Soleimani

تحریر : مبارک علی شمسی

3 جنوری بروز جمعتہ المبارک کی دھند میں لپٹی ہوئی منحوس صبح ایک درد ناک خبر کیساتھ نمودار ہوئی جس نے پوری امت مسلمہ کو کرب میں مبتلا کر دیا اور دنیا کو چونکا کر رکھ دیا ہے۔ اور اس افسوس ناک واقعہ پر ہر آنکھ اشک بار ہے اور ایران میں امریکہ خلاف مظاہرے شدت اختیار کر گئے ہیں اور ایرانیوں میں شدید غم و غصہ کی لہر پائی جاتی ہے۔ جس کی بنیادی وجہ بغداد کے ایئر پورٹ کے نزدیک امریکی ڈرون حملے میں ایرانی جرنیل قاسم سلیمانی کی شہادت ہے۔ اور امریکہ نے بھی اس کی ذمہ داری کو قبول کر لیا ہے اور ایرانی جرنیل قاسم سلیمانی کی شہادت کے بعد ٹرمپ نے خوشی کا اظہار کرتے ہوئے ٹویٹر پر امریکی جھنڈا پوسٹ کیا ہے۔ اور اس حملے کا دفاع کرتے ہوئے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ جنرل قاسم سلیمانی نے ہزاروں امریکیوں کو مارا ہے۔

انہوں نے میڈیا کو بتاتے ہوئے مزید کہا ہے کہ ہم ایران کے ساتھ جنگ نہیں چھیڑنا چاہتے تھے ہم تو جنگ کا خاتمہ چاہتے تھے جس کیلئے قاسم سلیمانی کو راستے سے ہٹانا از حد ضروری تھا۔ اور یہ بات بھی حقیقت ہے کہ امریکہ مسلم ممالک کیخلاف الزام تراشی میں اپنا کوئی ثانی نہیں رکھتا اور مسلم دشمنی کیلئے کوئی بھی موقع اپنے ہاتھ سے جانے نہیں دیتا اور جب ثبوت طلب کرنے کا مرحلہ آتا ہے تو امریکہ چپ سادھ لیتا ہے اور امریکہ کی اس خاموشی سے اس کی مکاری منافقت اور مسلم دشمنی کی قلی چاک ہو جاتی ہے۔ اور اس بات سے بھی روگردانی نہیں کی جا سکتی بلکہ یہ بات تو تاریخ کے پنوں پہ آج بھی نمایاں ہے کہ امریکہ ماضی میں بھی مسلم ممالک کیخلاف ایسی بزدلانہ تخریبی کاروائیاں کرتا رہا ہے۔ 1998 ء میں جب امریکی صدر کلنٹن کو مواخذہ کی تحریک کا سامنا تھا تو اس نے جوہری ہتھیاروں کا الزام لگا کر عراق پر حملہ کر دیا تھا اور بعد میں جب امریکی صدر باراک اوبامہ کو اسی تحریک کا سامنا کرنا پڑا تو اس نے اسامہ بن لادن کا الزام لگا کر افغانستان پہ جنگ مسلط کر دی تھی اور اب جب امریکہ میں نئے الیکشن ہونے جا رہے ہیں اور ٹرمپ کو بھی اسی تحریک کا سامنا ہے جس سے جان چھڑوانے کیلئے اور الیکشن میں لوگوں کی ہمدردیاں حاصل کرنے کیلئے اس نے ایرانی جنرل قاسم سلیمانی پر حملہ کروایا ہے۔ اس حملے میں ایرانی قدس کے جنرل قاسم سلیمانی اور حشد الشعبی کے ڈپٹی ہیڈ ابو مہدی المہندس سمیت 9 آدمی شہید ہوئے ہیں جبکہ زخمیوں کی تعداد اس کے علاوہ ہے جبکہ اسی رات کی تاریکی میں امریکہ کی جانب سے دوسرے حملے کی اطلاعات بھی ملی ہیں جس میں عراقی شیعہ ملیشیاوْں کو نشانہ بنایا گیا ہے جس میں 6  آدمی اپنی جان کی بازی ہار گئے ہیں۔ جس کی وجہ سے مشرق وسطیٰ میں حالات کافی حد تک کشیدہ ہیں اور مشرق وسطیٰ میں حالیہ پیشرفت سے خطے کے امن کو شدید خطرہ لاحق ہے اور اس عالم رنگ و بو میں تیسری عالمی جنگ کی باز گشت سنائی دے رہی ہے۔

ملت اسلامیہ کا ایک عظیم سرمایہ اور ایک بہادر لیڈر اس دنیا سے چلا گیا جس نے اپنی بصیرت اور شجاعت سے دشمنوں کی کمر توڑ کر رکھ دی۔ اس نڈر جرنیل کو عالمی دہشتگرد تنظیم داعش کے سربراہ ابو بکر بغدادی نے انہیں زندہ پکڑ کر جلانے کی دھمکی دی تھی جس کے جواب میں اس بلند حوصلہ جرنیل نے کہا تھا کہ اے ابو بکر مجھے بستر پر نہیں مرنا اور یہ بات بھی ذہن نشین رکھنا کہ جب تم مجھے دھمکی دے رہے تھے تو میں مسجد کے اندر موجود تیسری صف پر بیٹھ کر تیری بکواس سن رہا تھا۔ اگر میں چاہتا تو تجھے اسی وقت فی النار کر دیتا۔ یہ عظیم مرد مجاہد روحانیت کے اعلیٰ درجے پر فائز تھا اس جرنیل نے جس جوان کو بھی تھپکی دے کر شہادت کی دعا دی تو آپ کی دعا نے شرفت قبولیت پایا اور اس جوان نے شہادت کی موت پائی۔

اس عظیم شہید کو خراج عقیدت پیش کرنے کیلئے میرے پاس الفاظ نہیں ہیں۔ جام شہادت نوش کرنے والے جنرل قاسم سلیمانی 11 مارچ 1957 ء کو ایران کے صوبہ کرمان کے شہر رابر کے قنات ملک نامی علاقہ میں پیدا ہوئے پلے بڑھے اور پھر تعلیم سے فراغت کے بعد پانی کے محکمہ میں بھرتی ہو گئے۔ ایران میں اسلامی انقلاب کی بھر پور کامیابی کے بعد جنرل قاسم سلیمانی نے 1980 ء میں پاسداران انقلاب اسلامی فورس میں شمولیت اختیار کر لی اور اپنے آپ کو ملک و ملت کی خدمت کیلئے وقف کر دیا۔ 1980 ء سے لے کر 1988 ء تک جاری رہنے والی عراق اور ایران کی جنگ میں حصہ لے کر اپنی بہادری کے وہ جوہر دکھلائے کہ لوگ آپ کے معترف بن گئے اور قسمت کی دیوی آپ پر مہربان ہو گئی۔ اور آپ کامیابی کے بام و در عبور کرتے چلے گئے یہاں تک کہ جنرل قاسم سلیمانی کو ایرانی فوج کے 10 اہم ترین اور نڈر و بہادر فوجیوں کی فہرست میں شامل کر لیا گیا۔ جنرل قاسم سلیمانی کو 1998 ء میں جنرل احمد وحیدی کی جگہ القدس بریگیڈ کا سر براہ مقرر کیا گیا۔ 2007 ء میں جنرل یحیٰی رحیم صفوی کے دستبردار ہونے کے بعد بھی جنرل قاسم سلیمانی پاسداران انقلاب کی سربراہی کیلئے دیگر جرنلز کیساتھ نامزد ہوئے تھے تاہم 24 جنوری 2011ء میں ایران کے سپریم لیڈر قبلہ آیت اللہ خامنہ ای نے قاسم سلیمانی کو میجر جنرل کے عہدہ پر ترقی دے دی۔

قدس فورس کا کمانڈر بننے کے بعد جنرل قاسم سلیمانی نے بیرون ملک خفیہ کاروائیوں کے ذریعے مشرق وسطی میں ایران کی اہمیت اور اس کے اثر و رسوخ میں بے پناہ اضافہ کیا اور ایران سے وفادار ملیشیاوْں کا ایک مکمل نیٹ ورک تیار کر لیا تھا جس سے امریکہ سمیت ایران اور مسلمان دشمن ممالک خائف تھے۔جنرل قاسم سلیمانی کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ انہوں نے قدس فورس کا سر براہ بننے سے پہلے ایران کے صوبہ کرمان میں اپنی ملازمت کے فرائض سر انجام دیئے یہ صوبہ افغانستان کے قریب پڑتا ہے اور اسی وجہ سے افغانستان میں کاشت ہونے والی منشیات وغیرہ کی گزرگاہ تھا جس کے ذریعے یہ منشیات سمنگل ہو کر ترکی اور پھر یورپ بھر میں جاتی تھی مگر جنرل قاسم سلیمانی نے اس غیر قانونی مواد کی سمنگلنگ کو روک کر منشیات کی روک تھام میں بھی اپنا بھر پور کردار ادا کرتے ہوئے خاصی شہرت حاصل کی۔

قاسم سلیمانی نے اپنے کیریئر کے دوران حزب اللہ اور فلسطینی علاقوں میں حماس کو مضبوط کرنے میں اہم کردار ادا کیا انہوں نے شام کے صدر بشار الاسد کو ان کیخلاف 2011 ء میں شروع ہونے والی مسلح مزاحمتی تحریک سے نمٹنے کیلئے انہیں بہترین حکمت عملی بھی تیار کر کے دی تھی جسے شامی صدر نے بہت سراہا تھا۔ جنرل قاسم سلیمانی کو بیک وقت شام اور عراق کی کمانڈنگ کرنے کا اعزاز بھی حاصل ہے ان کی دانشمندانہ جنگی چالوں کی بدولت عراق میں داعش کا وجود خاک میں مل گیا تھا اور شامی فوج کے اعلٰی آفیسران قاسم سلیمانی سے رابطے کر کے مشورے کیا کرتے تھے اور جنگی ترکیبات کے طریقے جان کر ان پر عمل پیرا ہوتے تھے۔ 62 سالہ جنرل قاسم سلیمانی نے جوانی سے لے کر تا حال اسلام دشمن قوتوں کے ساتھ متعدد جنگیں لڑیں اور ہر جنگ میں فتح کی سند پائی۔

آیت اللہ خامنہ ای اور جنرل قاسم سلیمانی دونوں ایک ہی بریگیڈ کے عہدوں پر فائز تھے اور انہوں نے اکٹھے ہی جنگیں لڑی ہیں۔ اسی تناظر میں سپریم لیڈر  آیت اللہ خامنہ ای اور جنرل قاسم سلیمانی کے درمیان گہرے تعلقات تھے اور ان کی شہادت پر انہوں نے جنرل قاسم سلیمانی کو زندہ شہید کا لقب دیا ہے۔ اور کہا ہے کہ امریکہ نے جو سنگین کاروائی کی ہے اس کا رد عمل اس سے بھی زیادہ سنگین ہو گا۔ ایسی صورت حال میں مسلم ممالک کو ایران کا ساتھ دینا چاہیئے ورنہ امریکی حملے کا اگلا نشانہ کوئی اور اسلامی ملک بھی بن سکتا ہے۔ اب امریکہ نے آگ کے ڈھیر پر جو چنگاری پھینکی ہے اس پر ایران کی جانب سے اگر رد عمل آتا ہے تو اس کے نتائج بہت سنگین ہوں گے اور اس کے اثرات پاکستان پر بھی مرتب ہوں گے۔ اب ایسی صورتحال میں پاکستان کو سوچ سمجھ کر فیصلہ کرنا ہو گا اور پاکستان کو اپنے پتے احتیاط کے ساتھ کھیلنا ہوں گے۔

3 جنوری بروز جمعتہ المبارک کی دھند میں لپٹی ہوئی منحوس صبح ایک درد ناک خبر کیساتھ نمودار ہوئی جس نے پوری امت مسلمہ کو کرب میں مبتلا کر دیا اور دنیا کو چونکا کر رکھ دیا ہے۔ اور اس افسوس ناک واقعہ پر ہر آنکھ اشک بار ہے اور ایران میں امریکہ خلاف مظاہرے شدت اختیار کر گئے ہیں اور ایرانیوں میں شدید غم و غصہ کی لہر پائی جاتی ہے۔ جس کی بنیادی وجہ بغداد کے ایئر پورٹ کے نزدیک امریکی ڈرون حملے میں ایرانی جرنیل قاسم سلیمانی کی شہادت ہے۔ اور امریکہ نے بھی اس کی ذمہ داری کو قبول کر لیا ہے اور ایرانی جرنیل قاسم سلیمانی کی شہادت کے بعد ٹرمپ نے خوشی کا اظہار کرتے ہوئے ٹویٹر پر امریکی جھنڈا پوسٹ کیا ہے۔ اور اس حملے کا دفاع کرتے ہوئے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ جنرل قاسم سلیمانی نے ہزاروں امریکیوں کو مارا ہے۔

انہوں نے میڈیا کو بتاتے ہوئے مزید کہا ہے کہ ہم ایران کے ساتھ جنگ نہیں چھیڑنا چاہتے تھے ہم تو جنگ کا خاتمہ چاہتے تھے جس کیلئے قاسم سلیمانی کو راستے سے ہٹانا از حد ضروری تھا۔ اور یہ بات بھی حقیقت ہے کہ امریکہ مسلم ممالک کیخلاف الزام تراشی میں اپنا کوئی ثانی نہیں رکھتا اور مسلم دشمنی کیلئے کوئی بھی موقع اپنے ہاتھ سے جانے نہیں دیتا اور جب ثبوت طلب کرنے کا مرحلہ آتا ہے تو امریکہ چپ سادھ لیتا ہے اور امریکہ کی اس خاموشی سے اس کی مکاری منافقت اور مسلم دشمنی کی قلی چاک ہو جاتی ہے۔ اور اس بات سے بھی روگردانی نہیں کی جا سکتی بلکہ یہ بات تو تاریخ کے پنوں پہ آج بھی نمایاں ہے کہ امریکہ ماضی میں بھی مسلم ممالک کیخلاف ایسی بزدلانہ تخریبی کاروائیاں کرتا رہا ہے۔ 1998 ء میں جب امریکی صدر کلنٹن کو معاوضے کی تحریک کا سامنا تھا تو اس نے جوہری ہتھیاروں کا الزام لگا کر عراق پر حملہ کر دیا تھا اور بعد میں جب امریکی صدر باراک اوبامہ کو اسی تحریک کا سامنا کرنا پڑا تو اس نے اسامہ بن لادن کا الزام لگا کر افغانستان پہ جنگ مسلط کر دی تھی اور اب جب امریکہ میں نئے الیکشن ہونے جا رہے ہیں اور ٹرمپ کو بھی اسی تحریک کا سامنا ہے جس سے جان چھڑوانے کیلئے اور الیکشن میں لوگوں کی ہمدردیاں حاصل کرنے کیلئے اس نے ایرانی جنرل قاسم سلیمانی پر حملہ کروایا ہے۔

اس حملے میں ایرانی قدس کے جنرل قاسم سلیمانی اور حشد الشعبی کے ڈپٹی ہیڈ ابو مہدی المہندس سمیت 9 آدمی شہید ہوئے ہیں جبکہ زخمیوں کی تعداد اس کے علاوہ ہے جبکہ اسی رات کی تاریکی میں امریکہ کی جانب سے دوسرے حملے کی اطلاعات بھی ملی ہیں جس میں عراقی شیعہ ملیشیاوْں کو نشانہ بنایا گیا ہے جس میں 6  آدمی اپنی جان کی بازی ہار گئے ہیں۔ جس کی وجہ سے مشرق وسطیٰ میں حالات کافی حد تک کشیدہ ہیں اور مشرق وسطیٰ میں حالیہ پیشرفت سے خطے کے امن کو شدید خطرہ لاحق ہے اور اس عالم رنگ و بو میں تیسری عالمی جنگ کی باز گشت سنائی دے رہی ہے۔

ملت اسلامیہ کا ایک عظیم سرمایہ اور ایک بہادر لیڈر اس دنیا سے چلا گیا جس نے اپنی بصیرت اور شجاعت سے دشمنوں کی کمر توڑ کر رکھ دی۔ اس نڈر جرنیل کو عالمی دہشتگرد تنظیم داعش کے سربراہ ابو بکر بغدادی نے انہیں زندہ پکڑ کر جلانے کی دھمکی دی تھی جس کے جواب میں اس بلند حوصلہ جرنیل نے کہا تھا کہ اے ابو بکر مجھے بستر پر نہیں مرنا اور یہ بات بھی ذہن نشین رکھنا کہ جب تم مجھے دھمکی دے رہے تھے تو میں مسجد کے اندر موجود تیسری صف پر بیٹھ کر تیری بکواس سن رہا تھا۔ اگر میں چاہتا تو تجھے اسی وقت فی النار کر دیتا۔ یہ عظیم مرد مجاہد روحانیت کے اعلیٰ درجے پر فائز تھا اس جرنیل نے جس جوان کو بھی تھپکی دے کر شہادت کی دعا دی تو آپ کی دعا نے شرفت قبولیت پایا اور اس جوان نے شہادت کی موت پائی۔

اس عظیم شہید کو خراج عقیدت پیش کرنے کیلئے میرے پاس الفاظ نہیں ہیں۔ جام شہادت نوش کرنے والے جنرل قاسم سلیمانی 11 مارچ 1957 ء کو ایران کے صوبہ کرمان کے شہر رابر کے قنات ملک نامی علاقہ میں پیدا ہوئے پلے بڑھے اور پھر تعلیم سے فراغت کے بعد پانی کے محکمہ میں بھرتی ہو گئے۔ ایران میں اسلامی انقلاب کی بھر پور کامیابی کے بعد جنرل قاسم سلیمانی نے 1980 ء میں پاسداران انقلاب اسلامی فورس میں شمولیت اختیار کر لی اور اپنے آپ کو ملک و ملت کی خدمت کیلئے وقف کر دیا۔ 1980 ء سے لے کر 1988 ء تک جاری رہنے والی عراق اور ایران کی جنگ مکں حصہ لے کر اپنی بہادری کے وہ جوہر دکھلائے کہ لوگ آپ کے معترف بن گئے اور قسمت کی دیوی آپ پر مہربان ہو گئی۔ اور آپ کامیابی کے بام و در عبور کرتے چلے گئے یہاں تک کہ جنرل قاسم سلیمانی کو ایرانی فوج کے 10 اہم ترین اور نڈر و بہادر فوجیوں کی فہرست میں شامل کر لیا گیا۔ جنرل قاسم سلیمانی کو 1998 ء میں جنرل احمد وحیدی کی جگہ القدس بریگیڈ کا سر براہ مقرر کیا گیا۔ 2007 ء میں جنرل یحیٰی رحیم صفوی کے دستبردار ہونے کے بعد بھی جنرل قاسم سلیمانی پاسداران انقلاب کی سر براہی کیلئے دیگر جرنلز کیساتھ نامزد ہوئے تھے تاہم 24 جنوری 2011 ء میں ایران کے سپریم لیڈر قبلہ آیت اللہ خامنہ ای نے قاسم سلیمانی کو میجر جنرل کے عہدہ پر ترقی دے دی۔

قدس فورس کا کمانڈر بننے کے بعد جنرل قاسم سلیمانی نے بیرون ملک خفیہ کاروائیوں کے ذریعے مشرق وسطٰی میں ایران کی اہمیت اور اس کے اثر و رسوخ میں بے پناہ اضافہ کیا اور ایران سے وفادار ملیشیاوْں کا ایک مکمل نیٹ ورک تیار کر لیا تھا جس سے امریکہ سمیت ایران اور مسلمان دشمن ممالک خائف تھے۔جنرل قاسم سلیمانی کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ انہوں نے قدس فورس کا سر براہ بننے سے پہلے ایران کے صوبہ کرمان میں اپنی ملازمت کے فرائض سر انجام دیئے یہ صوبہ افغانستان کے قریب پڑتا ہے اور اسی وجہ سے افغانستان میں کاشت ہونے والی منشیات وغیرہ کی گزرگاہ تھا جس کے ذریعے یہ منشیات سمنگل ہو کر ترکی اور پھر یورپ بھر میں جاتی تھی مگر جنرل قاسم سلیمانی نے اس غیر قانونی مواد کی سمنگلنگ کو روک کر منشیات کی روک تھام میں بھی اپنا بھر پور کردار ادا کرتے ہوئے خاصی شہرت حاصل کی۔ قاسم سلیمانی نے اپنے کیریئر کے دوران حزب اللہ اور فلسطینی علاقوں میں حماس کو مضبوط کرنے میں اہم کردار ادا کیا انہوں نے شام کے صدر بشار الاسد کو ان کیخلاف 2011 ء میں شروع ہونے والی مسلح مزاحمتی تحریک سے نمٹنے کیلئے انہیں بہترین حکمت عملی بھی تیار کر کے دی تھی جسے شامی صدر نے بہت سراہا تھا۔ جنرل قاسم سلیمانی کو بیک وقت شام اور عراق کی کمانڈنگ کرنے کا اعزاز بھی حاصل ہے ان کی دانشمندانہ جنگی چالوں کی بدولت عراق میں داعش کا وجود خاک میں مل گیا تھا اور شامی فوج کے اعلٰی آفیسران قاسم سلیمانی سے رابطے کر کے مشورے کیا کرتے تھے اور جنگی ترکیبات کے طریقے جان کر ان پر عمل پیرا ہوتے تھے۔

62 سالہ جنرل قاسم سلیمانی نے جوانی سے لے کر تا حال اسلام دشمن قوتوں کے ساتھ متعدد جنگیں لڑیں اور ہر جنگ میں فتح کی سند پائی۔ آیت اللہ خامنہ ای اور جنرل قاسم سلیمانی دونوں ایک ہی بریگیڈ کے عہدوں پر فائز تھے اور انہوں نے اکٹھے ہی جنگیں لڑی ہیں۔ اسی تناظر میں سپریم لیڈر  آیت اللہ خامنہ ای اور جنرل قاسم سلیمانی کے درمیان گہرے تعلقات تھے اور ان کی شہادت پر انہوں نے جنرل قاسم سلیمانی کو زندہ شہید کا لقب دیا ہے۔ اور کہا ہے کہ امریکہ نے جو سنگین کاروائی کی ہے اس کا رد عمل اس سے بھی زیادہ سنگین ہو گا۔ ایسی صورت حال میں مسلم ممالک کو ایران کا ساتھ دینا چاہیئے ورنہ امریکی حملے کا اگلا نشانہ کوئی اور اسلامی ملک بھی بن سکتا ہے۔ اب امریکہ نے آگ کے ڈھیر پر جو چنگاری پھینکی ہے اس پر ایران کی جانب سے اگر رد عمل آتا ہے تو اس کے نتائج بہت سنگین ہوں گے اور اس کے اثرات پاکستان پر بھی مرتب ہوں گے۔ اب ایسی صورتحال میں پاکستان کو سوچ سمجھ کر فیصلہ کرنا ہو گا اور پاکستان کو اپنے پتے احتیاط کے ساتھ کھیلنا ہوں گے۔
Syed Mubarak Ali Shamsi

تحریر : مبارک علی شمسی

Share this:
Jamiat Ulema Islam
Previous Post چمن : جمعیت علماء اسلام ضلع قلعہ عبداللہ کے ضلعی انتخابات مکمل ہو گئے
Next Post زمین ڈاٹ کام اور اظہار منو ڈویلپرز نے میاواکی اربن فارسٹ کا افتتاح کر دیا
Opening

Related Posts

US and Israel Strike Iran as Hezbollah Conflict Intensifies

امریکہ اور اسرائیل کا ایران پر حملہ، حزب اللہ کے ایک ہزار ٹھکانے تباہ

April 28, 2026
Trump Rejects Iran’s Staged Peace Plan for War

ٹرمپ کا ایران کی جنگ ختم کرنے کی تازہ تجویز سے اظہار ناراضگی

April 28, 2026
Imran Khan Gets Fourth Eye Injection at Pims Hospital

عمران خان کو پمز میں چوتھی آنکھ کا انجکشن لگا دیا گیا

April 28, 2026
Pakistan Strikes Afghan Taliban Posts as Civilian Toll Rises

آپریشن غضب للحق: پاکستان نے چمن سیکٹر میں افغان طالبان کی چوکیاں تباہ کر دیں

April 28, 2026

Popular Posts

1 Grant Flower

پاکستان ٹیم کے کچھ کھلاڑیوں کیلئے خطرہ دکھائی دے رہا ہے: بیٹنگ کوچ

2 Katrina Kaif

کترینہ کا پاکستانی اداکارہ بننے سے انکار

3 Manchester knife Attack

مانچسٹر میں چاقو کے حملے میں تین افراد زخمی

4 New Year's Celebration

دنیا بھر میں رنگا رنگ آتش بازی اور برقی قمقموں کی چکا چوند کے ساتھ نئے سال کا آغاز

5 Bilawal Bhutto

صدر زرداری اجازت دیں تو ایک ہفتے میں پی ٹی آئی حکومت گرا سکتے ہیں: بلاول بھٹو

6 Qadir Ali

پی بی 26 ضمنی انتخاب: ہزارہ ڈیموکریٹک پارٹی کے قادر علی نے میدان مار لیا

© 2026 Geo Urdu France. All rights reserved.

We use cookies to ensure you get the best experience on our website.

ESC

Start typing to search...

↑↓ Navigate ↵ Open ESC Close

We use cookies to ensure you get the best experience on our website.