ترکیہ نے شمالی قبرصی ترک جمہوریہ میں اقوام متحدہ کی امن فورس کے مینڈیٹ کی توسیع کے حوالے سے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے حالیہ فیصلے پر اپنی مایوسی کا اظہار کیا ہے۔ ترکیہ کی وزارت خارجہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ اس بار بھی ترک قبرصی فریق کی منظوری نہیں لی گئی، جو اقوام متحدہ کے طے کردہ طریقوں کے خلاف ہے۔
بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ شمالی قبرصی ترک جمہوریہ کے علاقے میں اقوام متحدہ کی امن فورس کی سرگرمیاں صرف شمالی قبرصی حکام کی نیک نیتی کی بنیاد پر ہی انجام دی جا سکتی ہیں۔ اس کے ساتھ ہی، ترکیہ نے قانونی بنیادوں کا قیام ضروری سمجھتے ہوئے اس بات پر زور دیا ہے کہ وہ شمالی قبرصی ترک جمہوریہ کے اٹھائے گئے اقدامات کی مکمل حمایت کرے گا۔
ترکیہ نے اس بات پر بھی افسوس کا اظہار کیا ہے کہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے اپنے حالیہ قرارداد میں ایسے حل کے ماڈلز کا حوالہ دیا ہے جن کی معیاد ختم ہو چکی ہے اور جو کسی ممکنہ حل کے ایجنڈے سے باہر ہیں۔ وزارت خارجہ نے واضح کیا کہ قبرص کا منصفانہ، دیرپا اور پائیدار حل زمین پر موجود حقائق کی بنیاد پر ہی تلاش کیا جا سکتا ہے۔
ترکیہ نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ قبرصی ترک عوام کے خود مختار مساوات اور مساوی بین الاقوامی حیثیت کے بنیادی حقوق کی تصدیق کرے۔ اس ضمن میں ترکیہ نے اپنے عزم کا اعادہ کیا کہ وہ کسی بھی قسم کی دھونس یا ہٹ دھرمی کی اجازت نہیں دے گا۔
یہ صورتحال اقوام متحدہ کی طرف سے شمالی قبرصی ترک جمہوریہ کے حوالے سے کی جانے والی پالیسی میں ایک نئی پیچیدگی پیدا کر رہی ہے، جس پر عالمی برادری کی نگاہیں مرکوز ہیں۔
