لاہور: وزیر داخلہ محسن نقوی نے ہفتہ کو پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کو 8 فروری کو لاہور میں احتجاج کرنے کے اپنے منصوبے سے دستبردار ہونے کی درخواست کی، وارننگ دیتے ہوئے کہا کہ اگر عوامی اجتماع منعقد ہوا تو اس کے نتائج 26 نومبر کی طرح ہوں گے۔ ان کے یہ بیانات اس وقت سامنے آئے جب اپوزیشن جماعت نے 2024 کے عام انتخابات کے خلاف ایک بڑی مہم شروع کی ہے۔
محسن نقوی نے لاہور میں ایک نئے پاسپورٹ دفتر کے افتتاح کے موقع پر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ حکومت پی ٹی آئی سے مظاہروں کو منسوخ کرنے کی درخواست کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ اگر پی ٹی آئی ہماری بات نہیں مانتی تو ریاست اس کا جواب دے گی۔ انہوں نے 8 فروری کو لاہور میں ایک بین الاقوامی کرکٹ میچ کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ پی ٹی آئی کا مظاہرہ اسی دن منعقد کرنا ملک کی بین الاقوامی تصویر کو نقصان پہنچانے کے مترادف ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان کی سیاست ترقی کی بجائے انتشار کو بڑھا رہی ہے۔
پی ٹی آئی نے 8 فروری کو انتخابی دھوکہ دہی کے خلاف ایک سیاہ دن منانے کا اعلان کیا ہے اور سندھ بھر میں یکم فروری سے 8 فروری تک مظاہروں کی مہم شروع کرنے کا اعلان کیا ہے۔ اسی دوران پی ٹی آئی خیبر پختونخوا کے صدر جنید اکبر نے 30 جنوری کو اعلان کیا کہ پارٹی 8 فروری کو سوات میں ایک عوامی ریلی منعقد کرے گی۔
محسن نقوی نے مزید کہا کہ حکومت انسانی اسمگلنگ کے نیٹ ورکس کے خلاف سخت کارروائی کر رہی ہے اور انہوں نے عوام کو یقین دلایا کہ جلد ہی اس بارے میں خوشخبری ملے گی۔ انہوں نے کہا کہ پاسپورٹ کے اجرا میں تاخیر کو ختم کرنے کے لیے نئے مراکز قائم کیے جائیں گے۔
نقوی نے کہا کہ پاکستان اور امریکہ کے تعلقات مضبوط ہیں اور ان کے بہتر ہونے کی توقع ہے۔ انہوں نے کہا کہ حال ہی میں ایک پاکستانی وفد نے امریکہ کا دورہ کیا تھا جس کے مثبت نتائج سامنے آئیں گے۔
پی ٹی آئی کے رہنما حلیم عادل شیخ نے اس دن کو تاریک قرار دیتے ہوئے کہا کہ انتخابی چالاکی کے ذریعے ملک کا مستقبل متاثر ہوا ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ پی ٹی آئی کا مینڈیٹ فارم 47 کے ذریعے چوری کیا گیا ہے، جب کہ پارٹی کو عوامی حمایت حاصل تھی۔
اس کے ساتھ ہی، پی ٹی آئی کے رہنما خرم شیر زمان نے موجودہ حکومت کی اقتصادی پالیسیوں پر تنقید کی اور سیاسی کارکنوں کی رہائی کا مطالبہ کیا تاکہ سیاسی استحکام کو یقینی بنایا جا سکے۔
محسن نقوی کے بیانات اور پی ٹی آئی کی جانب سے متوقع مظاہروں کے تناظر میں سیاسی صورتحال مزید پیچیدہ ہوتی نظر آ رہی ہے، جس کا اثر ملک کی داخلی سیاست پر بھی پڑ سکتا ہے۔
