کراچی: پاکستان کرکٹ ٹیم کے کپتان محمد رضوان نے جنوبی افریقا کے خلاف تاریخی کامیابی حاصل کرنے کے بعد کہا کہ جب اللہ کی طرف سے مدد ہو تو ریکارڈ بھی بنتے ہیں۔ جنوبی افریقا کے خلاف میچ میں شاندار جیت کے بعد پریس کانفرنس میں محمد رضوان نے اپنی ٹیم کی کارکردگی کو سراہا۔
محمد رضوان نے بتایا کہ انہوں نے یہ سوچا تھا کہ جنوبی افریقا کی ٹیم 320 رنز تک کا ہدف دے گی لیکن کلاسن نے اسکور کو 350 تک پہنچا دیا۔ پاکستان نے جنوبی افریقا کے خلاف سب سے بڑا ہدف حاصل کرنے کا نیا ریکارڈ قائم کیا۔ اس سے قبل پاکستان نے 2022 میں آسٹریلیا کے خلاف 349 رنز کا ہدف کامیابی سے حاصل کیا تھا۔
کپتان نے مزید کہا کہ بابر اعظم اور فخر زمان نے اچھی شروعات کی تھیں، لیکن وکٹیں گرنے کے بعد ہمیں اپنی حکمت عملی کو بدلنا پڑا۔ محمد رضوان نے کہا کہ بابر اعظم ہماری ٹیم کے سب سے بہترین بیٹر ہیں اور ان کی قیادت میں اوپننگ کرانا ٹیم کے لئے بہتر ثابت ہوتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ میچ کے دوران 18ویں اوور تک اسکرین نہیں دیکھ رہے تھے اور پانچ پانچ اوور کا منصوبہ بنا کر چل رہے تھے جو کامیاب رہا۔
محمد رضوان نے ڈیتھ اوورز میں بولنگ کی کارکردگی کو بہتر بنانے کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے بابر اعظم کی بیٹنگ کی صلاحیتوں کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ ہم ہمیشہ ان سے سنچری کی توقع کرتے ہیں اور امید ہے کہ وہ جلد بڑا اسکور کریں گے۔ رضوان نے صائم ایوب کی عدم موجودگی کو ٹیم کے لئے بڑا نقصان قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان کے نہ ہونے سے فرق پڑا ہے۔
اس تاریخی میچ میں رضوان اور سلمان کی شاندار سنچریوں کی بدولت پاکستان نے 353 رنز کا ہدف 49 اوورز میں 4 وکٹوں کے نقصان پر پورا کر لیا۔ یہ پہلی بار ہوا ہے کہ پاکستان کی جانب سے دو مڈل آرڈر بیٹرز نے ایک ہی اننگز میں سنچریاں اسکور کی ہیں، جس سے کئی ریکارڈ قائم ہو گئے۔
