یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی نے الزام عائد کیا ہے کہ جمعرات اور جمعہ کی درمیانی شب روسی ڈرون حملے میں چرنوبل ایٹمی پلانٹ کی حفاظتی آرک کو نقصان پہنچا ہے، تاہم انہوں نے یقین دہانی کرائی ہے کہ تابکاری کی سطح میں کوئی اضافہ نہیں ہوا۔
زیلنسکی نے اپنے بیان میں کہا، “گزشتہ رات ایک روسی ڈرون جو کہ انتہائی دھماکہ خیز مواد سے لیس تھا، نے چرنوبل کے ری ایکٹر نمبر چار کی حفاظتی آرک کو نشانہ بنایا۔” انہوں نے مزید کہا کہ آگ پر قابو پا لیا گیا ہے اور تابکاری کی سطح میں کوئی اضافہ نہیں ہوا۔
بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی (آئی اے ای اے) نے بھی اس واقعے کی تصدیق کی ہے اور کہا ہے کہ ان کی ٹیم نے آرک سے دھماکے کی آواز سنی۔ ان کو مطلع کیا گیا کہ یہ دھماکہ ایک ڈرون کی وجہ سے ہوا۔
یہ دھاتی آرک اس ری ایکٹر کو ڈھانپتی ہے جو اپریل 1986 میں پھٹا تھا، اور یہ پہلا سرکوفیگس اور اس کے اندر موجود تابکار ملبے کی حفاظت کرتی ہے۔ آئی اے ای اے کے مطابق، دھماکہ جمعہ کی صبح 1 بج کر 50 منٹ پر ہوا۔
زیلنسکی نے اس واقعے کی تصاویر بھی جاری کی ہیں، جن میں دھاتی آرک میں سوراخ اور خراب شدہ آلات دکھائے گئے ہیں۔ تصاویر میں آرک کی دھات کی چادریں پھٹی ہوئی نظر آ رہی ہیں۔
زیلنسکی نے مزید کہا کہ، “آج کی روس واحد ملک ہے جو ایسے مقامات پر حملے کرتا ہے، ایٹمی پلانٹس پر قبضہ کرتا ہے اور نتائج کی پروا کیے بغیر جنگ چھیڑتا ہے۔ یہ عالمی سطح پر دہشت گردی کی دھمکی ہے۔”
یوکرین میں جاری جنگ کے پس منظر میں، یہ واقعہ بین الاقوامی تشویش کا باعث بن رہا ہے کیونکہ ایٹمی پلانٹس کی حفاظت اور سلامتی کو خطرہ لاحق ہے۔
