پیرس: فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے یوکرین میں امن کے حوالے سے خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ کسی بھی ایسے امن معاہدے کو قبول نہیں کیا جا سکتا جو یوکرین کی شکست کے مترادف ہو۔ انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ روس کے صدر ولادیمیر پوتن کو حقیقی اور دیرپا جنگ بندی کے لیے آمادہ ہونا چاہیے۔
صدر میکرون نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی روسی ہم منصب کے ساتھ براہ راست مذاکرات کی کوششوں پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ “ایک ایسا امن جو یوکرین کی ہار ہو، یہ سب کے لیے بری خبر ہے”۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ دیکھنا ہوگا کہ آیا پوتن واقعی پائیدار جنگ بندی کے لیے تیار ہیں یا نہیں۔
میکرون نے مزید کہا کہ یوکرین ہی وہ واحد ملک ہے جو روس کے ساتھ اپنی خود مختاری اور علاقائی سالمیت کے معاملات پر مذاکرات کر سکتا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ یورپی ممالک کو بھی مستقبل کی سیکیورٹی کے حوالے سے مذاکرات میں شامل ہونا چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ بین الاقوامی برادری کی ذمہ داری ہے کہ وہ مل کر یورپی سیکیورٹی کی ضمانتیں فراہم کرے۔
میکرون نے یوکرین میں زمین پر فورسز بھیجنے کی بات بھی کی تاکہ ممکنہ جنگ بندی کی صورت میں یوکرین کی سیکیورٹی کو یقینی بنایا جا سکے۔ امریکی سیکریٹری دفاع پیٹ ہیگسیٹھ نے کہا کہ یورپ کو مضبوط سیکیورٹی ضمانتیں تلاش کرنی ہوں گی اور امریکی افواج کا یوکرین میں تعیناتی کا کوئی ارادہ نہیں۔
