پیرس میں ایک دلسوز واقعہ پیش آیا جہاں ایک خاتون، عاصیہ کو فروری 2023 میں ان کے شوہر نے قتل کر دیا اور ان کے جسم کے ٹکڑے بوٹس-شاومونٹ پارک میں پائے گئے۔ اس دل دہلا دینے والے واقعہ پر پیرس کے پراسیکیوشن نے شوہر کے خلاف قتل کا مقدمہ چلانے کی درخواست کی ہے۔
تفصیلات کے مطابق، عاصیہ کے جسم کے ٹکڑے 13 اور 14 فروری کو پیرس کے بوٹس-شاومونٹ پارک میں ملے، جس کے بعد پولیس نے فوری طور پر پارک کو خالی کروا کر تحقیقات کا آغاز کیا۔ مقتولہ کے شوہر، جس کا نام لکھدر ایم بتایا گیا ہے، نے اپنی بیوی کے لاپتہ ہونے کی رپورٹ 3 فروری کو درج کروائی تھی، لیکن بعد میں تحقیقات کے دوران ان کے خلاف قتل کا مقدمہ درج کر کے انہیں حراست میں لے لیا گیا۔
قتل کے الزام میں گرفتار شوہر نے دعویٰ کیا کہ ان کا کوئی ارادہ قتل کا نہیں تھا۔ ان کے وکیل نے بتایا کہ لکھدر نے تفتیش کے دوران بارہا کہا کہ ان کی بیوی کی موت ان کی خواہش کے بغیر ہوئی۔ انہوں نے کہا کہ مالی مسائل کی بنا پر 30 جنوری 2023 کو ان کے درمیان جھگڑا ہوا تھا، اور انہوں نے عاصیہ کو خاموش کرانے کے لیے گلا دبایا، مگر قتل کی نیت سے نہیں۔
مزید تحقیقات میں یہ بات بھی سامنے آئی کہ لکھدر نے 2 فروری کو عاصیہ کے جسم کو کاٹ کر ٹکڑے کئے اور ان کی گمشدگی کی کہانی گھڑی۔ انہوں نے یہ سب کچھ کسی ذہنی بیماری کے بغیر اور پوری ہوش و حواس میں کیا۔ ماہرین نفسیات نے ان کے اس عمل کو “ذہنی علیحدگی” کا نتیجہ قرار دیا۔
یہ کیس اب عدالت میں ہے جہاں لکھدر کے خلاف قتل کا مقدمہ چلانے کا فیصلہ متوقع ہے۔ اس افسوسناک واقعہ نے پیرس کی عوام کو بھی جھنجھوڑ کر رکھ دیا، جہاں مارچ 2023 میں عاصیہ کی یاد میں ایک خاموش مارچ بھی منعقد کیا گیا۔ تین بچوں کی ماں کے اس دردناک انجام نے معاشرتی مسائل کو بھی اجاگر کیا ہے۔
