سمندر یا سوئمنگ پول میں تیراکی کے بعد فوری نہانے کو اکثر محض ایک آرام دہ عمل سمجھا جاتا ہے، لیکن طبی ماہرین کے مطابق یہ ایک بنیادی طبی ضرورت ہے۔ پیرس کے سینٹ لوئس ہسپتال کے ڈرمیٹالوجسٹ ڈاکٹر ایرون بیناسایا اسے “سادہ عقل” قرار دیتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ جلد اور بالوں پر نمک، کلورین یا دیگر کیمیکلز کا رہ جانا نہ صرف ناگوار احساس پیدا کرتا ہے بلکہ سنگین طبی مسائل کا سبب بھی بن سکتا ہے۔
نمک اور کلورین جلد کو کیسے خشک کرتے ہیں؟
سمندر کے پانی میں موجود نمک، جب کئی گھنٹوں کی دھوپ، ہوا اور گرمی کے ساتھ مل جائے، تو جلد کی قدرتی نمی چھین لیتا ہے۔ یہ صورتحال خاص طور پر ایگزیما یا ایٹوپک جلد والے افراد کے لیے نقصان دہ ہے۔ ڈاکٹر بیناسایا انہیں سختی سے مشورہ دیتےیں کہ وہ تیراکی کے بعد صاف پانی سے نمک کو ضرور دھوئیں۔ اسی طرح، سوئمنگ پول میں موجود کلورین بھی جلد پر خشکی کا باعث بنتی ہے۔ حساس جلد والے افراد کو خارش، سرخی، جلد کا چھلکا اترنا اور یہاں تک کہ الرجک کانٹیکٹ ڈرمیٹائٹس جیسے مسائل کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
انفیکشن کا پوشیدہ خطرہ
جلد کی خشکی کے علاوہ، نہ نہانے کی صورت میں ایک بڑا خطرہ بیکٹیریل انفیکشن کا ہے، خاص طور پر اگر جسم پر کوئی کھلا زخم موجود ہو۔ ڈاکٹر بیناسایا خبردار کرتے ہیں کہ اس طرح زخم کے خراب ہونے کا شدید امکان رہتا ہے۔ 2021 کی ایک تحقیق کے مطابق، سمندر میں تیراکی کرنے والے افراد میں اینٹی بائیوٹک مزاحمت والے جراثیم کے جینز میں اضافہ دیکھا گیا، جو انفیکشن کے علاج کو مشکل بنا دیتے ہیں۔ ماہرین کا مشورہ ہے کہ جھیلوں، تالابوں یا گرم پانی کے چشموں میں تیراکی کے بعد زخم کو اچھی طرح جراثیم سے پاک کرکے واٹر پروف پٹی سے ڈھانپنا نہ بھولیں۔
بالوں کی خوبصورتی اور صحت پر اثرات
بار بار تیراکی کے بعد بالوں کو نہ دھونا ان کی چمک، نمی اور لچک چھین لیتا ہے۔ نمک اور کلورین کے اثرات اور براہ راست سورج کی شعاعیں بالوں کی بیرونی تہہ کو نقصان پہنچا کر انہیں خشک، بے جان اور آسانی سے ٹوٹنے والا بنا دیتی ہیں۔ اس لیے تیراکی کے بعد نہاتے وقت بالوں کو ان کی ساخت کے مطابق ملائم شیمپو سے دھونا انتہائی ضروری ہے۔
نہانے کا بہترین وقت کیا ہے؟
اگرچہ سوئمنگ پول میں فوری نہانا ممکن ہے، لیکن خشک سالی کے باعث سمندری ساحلوں پر عوامی شاورز بند ہونے کی وجہ سے یہ مشکل ہو سکتا ہے۔ ماہرین کے مطابق، گھبرانے کی ضرورت نہیں، آپ دن کے اختتام پر گھر جا کر نہا سکتے ہں۔ اس بات کو یقینی بنانے کے لیے کہ نمک، ریت، پسینے اور سن اسکرین کے تمام ذرات صاف ہو جائیں، موئسچرائزنگ صابن یا شاور جیل کا استعمال کریں۔ ڈرمیٹالوجسٹ ڈاکٹر ایرم این الیاس کا کہنا ہے کہ جلد کو رگڑنے یا اینٹی بیکٹیریل صابن کے استعمال سے گریز کریں کیونکہ اس سے جلد کی حفاظتی تہہ کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔ آخر میں، جسم کے تہوں والے حصوں، رانوں کے درمیان کی جگہ اور انگلیوں کے درمیان خالی جگہوں کو اچھی طرح خشک کرنا نہ بھولیں تاکہ چھٹیوں کے بقیہ دنوں میں انفیکشن سے بچا جا سکے۔
