پیرس: فرانسیسی پارلیمنٹ نے منگل کو ایک تاریخی قانون کو حتمی منظوری دے دی، جس کے تحت ملک میں 15 سال سے کم عمر کے نوجوانوں کے لیے سوشل میڈیا اکاؤنٹس بنانے پر پابندی عائد کر دی گئی ہے۔ یکم ستمبر سے نافذ العمل ہونے والا یہ قانون صدر ایمانوئل میکرون کے اہم انتخابی وعدوں میں سے ایک تھا، تاہم اس کے نفاذ کو ایک کٹھن جنگ قرار دیا جا رہا ہے۔
نئے قانون کے مطابق، یکم ستمبر کے بعد 15 سال سے کم عمر کا کوئی بھی شخص نیا سوشل میڈیا اکاؤنٹ نہیں بنا سکے گا۔ موجودہ اکاؤنٹس کو چار ماہ کے اندر حذف کرنا ہوگا۔ یہ پابندی آن لائن انسائیکلوپیڈیاز، تعلیمی و سائنسی ڈائریکٹریز، اور اوپن سورس سافٹ ویئر پلیٹ فارمز پر لاگو نہیں ہوگی۔
عمر کی تصدیق: ایک حل طلب تکنیکی معمہ
قانون کی منظوری کے باوجود، سب سے بڑا سوال بدستور برقرار ہے: صارفین کی عمر کی مؤثر طریقے سے تصدیق کیسے کی جائے گی؟ متن میں یہ وضاحت نہیں کی گئی کہ پلیٹ فارمز اسے کیسے نافذ کریں گے، بلکہ یہ ذمہ داری خود انہی پر ڈالی گئی ہے۔ حکومت ایک “قابلِ اعتماد فریق ثالث” کے نظام پر انحصار کر رہی ہے، جہاں ‘فرانس آئیڈینٹیٹی’ جیسے اوزار صارف کی ذاتی معلومات شیئر کیے بغیر اس کی عمر کی تصدیق کر سکیں گے۔
تاہم، ڈیجیٹل ماہرین اسے ایک بہت بڑا چیلنج سمجھتے ہیں۔ پلیٹ فارمز کو اپنے اکاؤنٹ بنانے کے نظام کو یکسر تبدیل کرنا ہوگا اور پھر کروڑوں موجودہ صارفین سے عمر کا ثبوت مانگنا ہوگا۔ میٹا، ٹک ٹاک اور اسنیپ جیسی بین الاقوامی کمپنیوں کو اس پر آمادہ کرنا ایک الگ مشکل ہے۔ سینیٹر ڈیوڈ روز نے اسے “ناقابلِ نفاذ اعلانیہ متن” قرار دیا، جبکہ سوشلسٹ پارٹی کے ترجمان آرتھر ڈیلاپورٹ نے کہا کہ “یہ پابندی تقریباً ناقابلِ عمل ہے کیونکہ ہمیں اب بھی نہیں معلوم کہ عمر کا کنٹرول مؤثر طریقے سے کیسے ہوگا۔”
آسٹریلیا کا تجربہ اور وی پی این کا چیلنج
آسٹریلیا، جس نے 16 سال سے کم عمر کے لیے سوشل میڈیا پر پابندی لگانے والا پہلا ملک ہونے کا دعویٰ کیا تھا، اس قانون کے نفاذ کی مشکلات کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ تین ماہ بعد ہی وہاں کے ریگولیٹر نے متعدد پلیٹ فارمز کی عدم تعمیل کی نشاندہی کی تھی۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ عمر کی تصدیق کا کوئی بھی نظام ناقابلِ تسخیر نہیں ہے۔ وی پی این کے استعمال، بڑوں کے بنائے گئے اکاؤنٹس، یا دیگر طریقوں سے اس پابندی کو آسانی سے بائی پاس کیا جا سکتا ہے، جس سے اس قانون کی افادیت پر سنگین سوالیہ نشان لگتا ہے۔
یورپی یونین اور آئینی کونسل کی رکاوٹیں
>قانون کو ایک اور بڑی رکاوٹ کا سامنا یورپی یونین کے ڈیجیٹل سروسز ایکٹ (ڈی ایس اے) کی صورت میں ہے۔ یورپی کمیشن نے اگرچہ فرانس کو کم از کم عمر مقرر کرنے کی اجازت دے دی، لیکن اس نے خبردار کیا کہ قومی نظام یورپی ڈھانچے سے ہٹ کر نہیں ہونا چاہیے۔ اسی دباؤ کے تحت سینیٹ کو پلیٹ فارمز کی “بلیک لسٹ” بنانے کا اپنا ابتدائی منصوبہ ترک کرنا پڑا۔ اس کے علاوہ، سوشلسٹ پارٹی کی جانب سے اس معاملے کو آئینی کونسل میں لے جانے کا امکان بھی موجود ہے، جس سے قانون کی قسمت مزید الجھ سکتی ہے۔
پانچ ہفتوں میں اسکولوں میں موبائل پر پابندی کا چیلنج
اسی قانون کے تحت ہائی اسکولوں میں بھی مڈل اسکولوں کی طرح موبائل فون پر مکمل پابندی عائد کی جائے گی، جسے ستمبر میں نئے تعلیمی سال کے آغاز سے ہی نافذ کرنے کا ہدف ہے۔ اسکول سربراہوں کو محض پانچ ہفتوں میں یہ انتظام کرنا ہوگا، جس میں آلات کو ضبط کرنے اور مخصوص تعلیمی استعمال جیسے معاملات کو حل کرنا شامل ہے۔
سینیٹر لارنٹ لافون نے اعتراف کیا کہ “ہر کوئی اس متن کی قانونی اور عملی حدود سے آگاہ ہے۔” جبکہ ڈیلاپورٹ نے تنقید کرتے ہوئے کہا، “کیا ہم ایک متناسب اور مؤثر پابندی چاہتےیں جو ایک سال میں نافذ ہو، دو ماہ میں جلد بازی میں کچھ ایسا کرنا چاہتے ہیں جو الٹا نقصان دہ ثابت ہو؟” یہ سوالات اس قانون کی عملی تقدیر کو غیر یقینی بنا رہے ہیں۔
