یورپی ممالک میں امریکہ سے حاصل کردہ ایف-35 جنگی طیارے موجود ہیں، لیکن ان کی آزادی اور خودمختاری کے بارے میں خدشات بڑھتے جا رہے ہیں۔ یوکرین میں جاری تنازع اور عالمی سطح پر بڑھتی ہوئی جغرافیائی سیاسی کشیدگی کے باعث یہ خدشہ پیدا ہوا ہے کہ کیا امریکہ واقعی ان طیاروں کو استعمال سے روک سکتا ہے؟
امریکی سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ممکنہ اقدامات کے حوالے سے خدشات ظاہر کیے جا رہے ہیں کہ وہ محض ایک بٹن دبا کر یورپی ایف-35 طیاروں کو گراؤنڈ کر سکتے ہیں۔ یہ خدشہ ان ممالک کے لیے خاص طور پر اہم ہو گیا ہے جنہوں نے امریکی ساختہ ان طیاروں کو اپنے دفاع کے لیے منتخب کیا ہے۔ برطانیہ، اٹلی، ناروے، فن لینڈ، نیدرلینڈز، بیلجیئم، پولینڈ، سوئٹزرلینڈ اور جرمنی سمیت کئی ممالک نے یہ طیارے خرید رکھے ہیں۔
سوشل میڈیا پر گردش کرنے والے ایک نظریے کے مطابق، واشنگٹن ان طیاروں کو ایک خفیہ سافٹ ویئر کے ذریعے غیر فعال کر سکتا ہے۔ تاہم، ان خدشات کو ایف-35 کے خریداروں نے مسلسل مسترد کیا ہے۔ بیلجیئم کی دفاعی افواج کے سربراہ نے واضح کیا ہے کہ ان کے پاس ایسے کسی نظام کی معلومات نہیں ہیں جو امریکی کنٹرول میں ہو۔
ایف-35 طیارے ایک پیچیدہ کمپیوٹر نظام پر مبنی ہیں جو ان کی کارکردگی کے لیے نہایت اہم ہے۔ فلوریڈا میں واقع ایک امریکی بیس پر ان کی دیکھ بھال اور اپڈیٹس کا انتظام کیا جاتا ہے۔ یہ مرکز نہ صرف طیاروں کی دیکھ بھال کے لیے ضروری معلومات کی ترسیل کرتا ہے بلکہ ان کے اسپیئر پارٹس کی عالمی سطح پر فراہمی کا بھی انتظام کرتا ہے۔
نظریاتی طور پر، یہ نظام کسی وائرس کے ذریعے طیاروں کو غیر فعال کر سکتا ہے، تاہم، ایف-35 طیارے 30 دن تک بغیر کسی بیرونی کنکشن کے بھی کام کر سکتے ہیں۔ لیکن ایک اور چیلنج ان ممالک کے لیے ہے جو ان طیاروں کو استعمال کرتے ہیں، اور وہ ہے مشن ڈیٹا فائلز کی تیاری۔ یہ ساری فائلیں امریکی کنٹرول میں تیار ہوتی ہیں، جو ان ممالک کی خود مختاری پر سوالیہ نشان لگاتی ہیں۔
امریکہ کی یہ گرفت ان طیاروں کے استعمال کو اپنے قومی مفاد کے مطابق یقینی بناتی ہے، جس کے باعث یورپی ممالک میں اس کے حوالے سے خدشات بڑھ رہے ہیں۔
