امریکا نے اسرائیلی فضائی حملے میں اپنی شمولیت کی تردید کر دی ہے۔ امریکی وزیر خارجہ نے واضح کیا کہ اسرائیل نے ایران پر یکطرفہ کارروائی کی ہے اور امریکا کا اس میں کوئی کردار نہیں ہے۔ اسرائیل نے جمعہ کی صبح ایران پر حملہ کرتے ہوئے متعدد جوہری اور فوجی اہداف کو نشانہ بنایا۔
اسرائیلی وزیر دفاع نے اعلان کیا کہ یہ حملے پیشگی اقدام کے تحت کیے گئے ہیں اور ملک میں ہنگامی حالت نافذ کر دی گئی ہے۔ اسرائیلی فوجی حکام کے مطابق حملے میں ایران کے درجنوں مقامات کو نشانہ بنایا گیا ہے۔
امریکی وزیر خارجہ نے بیان دیا کہ واشنگٹن کی اولین ترجیح خطے میں امریکی افواج کا تحفظ ہے اور اسرائیل نے ایران کے خلاف کارروائی کو اپنے دفاع کے لیے ضروری قرار دیا۔ انہوں نے ایران کو خبردار کیا کہ وہ امریکی مفادات یا اہلکاروں کو نشانہ نہ بنائے۔
اسرائیل کی اس کارروائی پر ایران کی جانب سے شدید ردعمل سامنے آیا ہے۔ ایرانی سپریم لیڈر نے اعلان کیا ہے کہ اسرائیل کو اس حملے کی سخت سزا دی جائے گی، جبکہ ایرانی افواج نے بھی خبردار کیا ہے کہ اسرائیل کے ساتھ امریکا کو بھی حملے کی قیمت چکانا پڑے گی۔ اسرائیلی حملے میں پاسداران انقلاب کے سربراہ حسین سلامی سمیت کئی کمانڈرز اور سائنسدان شہید ہو گئے ہیں۔
اسرائیل نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے فضائی حملوں میں ایران کے جوہری اور فوجی اہداف کو کامیابی سے نشانہ بنایا ہے۔ اس پیش رفت کے بعد خطے میں کشیدگی میں مزید اضافہ ہو گیا ہے اور عالمی برادری کی نظریں ان تنازعات پر مرکوز ہیں۔
