نئی دہلی — بھارت نے اپنی فضائی قوت کو بڑھانے کے لیے فرانس کی رفائل طیاروں کی مزید کھیپ خریدنے پر غور شروع کر دیا ہے۔ یہ پیشکش ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب حال ہی میں پاکستان کے خلاف کیے گئے ہوائی حملے کے مختلف تجزیے سامنے آئے ہیں۔ اس کے باوجود، بھارت نے فرانس کی ڈیساؤلٹ ایوی ایشن پر اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے اپنے دفاعی نظام کے اس اہم اقدام کو جاری رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔
نئی ممکنہ خریداری
بھارتی حکومت نے باضابطہ طور پر فرانس کی ڈیساؤلٹ ایوی ایشن سے اضافی رفائل جنگی طیاروں کی خریداری کے ممکنہ اخراجات کی تفصیلات طلب کر لی ہیں۔ موجودہ منصوبہ بندی کے تحت 40 سے 114 اضافی طیارے خریدنے پر غور کیا جا رہا ہے، جو بھارت کی فضائی قوت کو مزید مضبوط بنانے کا اُمید افزا اشارہ ہے۔ یہ خریداری 2016 کی 36 رفائل طیاروں کی 9.4 ارب ڈالر میں کی گئی خریداری اور حالیہ 26 طیاروں کی 7.4 ارب ڈالر میں حاصل کی گئی کھیپ کے بعد ہونے جا رہی ہے۔
چیلنجز کے باوجود بھارت بدستور ڈیساؤلٹ ایوی ایشن کے ساتھ اپنے پارٹنرشپ کو مضبوط بنا رہا ہے۔ ان طیاروں کی کارکردگی پر تنقید کے باوجود یہ اعتماد اس بات کا ثبوت ہے کہ بھارت کے لیے یہ طیارے کس قدر اہم ہیں۔
افواہیں اور جوابی ردعمل
پاکستان کے خلاف حالیہ فضائی حملے کے بعد رفائل طیاروں کی کارکردگی کے بارے میں مختلف افواہیں چل رہی ہیں، جنہیں پاکستان کی طرف سے پھیلائے جانے والی خبروں کا نتیجہ بھی بتایا جا رہا ہے۔ چاہے جو بھی خبریں گردش کر رہی ہوں، بھارت نے طیاروں کے لیے مزید خریداری کا ارادہ نہیں چوڑا۔ ڈیساؤلٹ ایوی ایشن کے چیف ایگزیکٹو ایرک ٹراپیئر نے اس سلسلے میں کہا کہ “بھارتی صارفین میری مصنوعات خریدتے ہی رہتے ہیں۔” یہ تبصرہ دونوں ملکوں کے درمیان مضبوط دفاعی تعلقات کی عکاسی کرتا ہے۔
مستقبل کی سمت
بھارتی حکومت فرانس سے اس ممکنہ خریداری پر باضابطہ جواب کے انتظار میں ہے، جو اگست کے آخر یا ستمبر کے آغاز میں متوقع ہے۔ اگر یہ معاہدہ پایہ تکمیل کو پہنچتا ہے تو بھارت رفائل ایم طیاروں کا پہلا بڑا خریدار بنے گا، جو فرانس کے بعد دوسرا ملک ہو گا۔ یہ پیشرفت بھارت کو ایک ابھرتی ہوئی عالمی فوجی طاقت کے طور پر پیش کرے گی اور فرانس کے ساتھ اس کے تعلقات کو مزید فروغ دے گی۔
یہ طیارے، اپنی جدید ٹیکنالوجی کے ساتھ، بھارت کی علاقائی سیکیورٹی اور فوجی استعداد کار کو یقینی بنائیں گے، جو کہ بھارت کی بین الاقوامی حیثیت کو مزید مستحکم کرے گا۔
