METAESC: ایران اور امریکہ کے درمیان امن معاہدے کی امیدوں کے باوجود آبنائے ہرمز میں کشیدگی بڑھ گئی۔ امریکی فورسز نے ایرانی ڈرونز مار گرائے جبکہ ایران نے اثاثے غیر منجمد کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔
فوجی کشیدگی کے سائے میں معاہدے کی دوڑ
خلیج فارس میں کشیدگی اس وقت ڈرامائی طور پر بڑھ گئی جب امریکی فورسز نے آبنائے ہرمز میں تجارتی جہازوں کو نشانہ بنانے کی کوشش کرنے والے متعدد ایرانی ڈرونز کو مار گرایا۔ یہ فوجی کارروائی ایسے وقت میں ہوئی ہے جب دونوں ملک ایک نازک امن معاہدے کے قریب پہنچنے کی اطلاعات دے رہے ہیں، جس سے خطے میں قیام امن کی امیدوں پر سوالیہ نشان لگ گیا ہے۔
خبر رساں ایجنسی رائٹرز کے مطابق، ایک ذریعے نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ امریکی فوج نے آبنائے ہرمز کی جانب بڑھنے والے متعدد یک طرفہ حملہ آور ڈرونز کو نشانہ بنایا۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس سے قبل ایران کو خبردار کیا تھا کہ وہ آبنائے ہرمز سے گزرنے کی کوشش کرنے والے بحری جہازوں پر مزید ڈرون فائر کرنے سے گریز کرے، اور ایران کو “جلد از جلد اپنے معاملات درست کرنے” کا حکم دیا تھا۔
ایران کا دعویٰ: 24 ارب ڈالر کے اثاثے غیر منجمد
دوسری جانب، ایرانی میڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکہ نے ایران کے 24 ارب ڈالر کے منجمد اثاثے جاری کرنے پر رضامندی ظاہر کر دی ہے۔ ایرانی مصلحت تشخیصی کونسل کے رکن محسن رضائی نے سرکاری خبر رساں ایجنسی فارس کو بتایا کہ ٹرمپ نے “خاموشی سے اثاثوں کی رہائی پر اتفاق کیا ہے، لیکن وہ اس کا برملا اعلان نہیں کر رہے”۔ تاہم، صدر ٹرمپ نے ایرانی میڈیا کی ان رپورٹوں کو “جعلی خبریں” قرار دے کر مسترد کر دیا ہے۔
دریں اثنا، متحدہ عرب امارات نے بھی ان میڈیا رپورٹس کی تردید کی ہے جن میں کہا گیا تھا کہ ایران کے منجمد فنڈز امارات کے راستے منتقل کیے گئے ہیں۔ اماراتی حکام کا کہنا ہے کہ نہ تو کوئی ایرانی فنڈز جاری کیے گئے اور نہ ہی ان کی منتقلی امارات کے ذریعے ہوئی۔
امن معاہدے کی قریب ہونے کی پیش گوئیاں
فوجی جھڑپوں کے باوجود، ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے ایک امید افزا بیان دیتے ہوئے کہا کہ امریکہ کے ساتھ مسودہ معاہدے کو حتمی شکل دینے کے بعد “آنے والے دنوں” میں “ریموٹلی” دستخط کیے جا سکتے ہیں۔ انہوں نے سرکاری ٹیلی ویژن کو بتایا، “جیسے ہی ہمارے مذاکرات کے آخری مراحل مکمل ہو جائیں گے، اس معاہدے پر دستخط اور اعلان کر دیا جائے گا۔” عراقچی نے اس امر پر زور دیا کہ وہ اس حوالے سے “بہت پرامید” ہیں۔
دوسری طرف، ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے سخت لہجے میں کہا کہ “سی ‘اگر’ اور ‘مگر’ کے بغیر” کیے گئے وعدوں کو پورا کرنا ہوگا، جو کہ مذاکرات کی نازک صورتحال کی عکاسی کرتا ہے۔
عالمی منڈیوں پر اثرات اور علاقائی ردعمل
علاقائی سطح پر سفارتی کوششیں بھی جاری ہیں۔ پاکستان کے نائب وزیراعظم اسحاق ڈار اور مصری وزیر خارجہ نے ٹیلی فونک گفتگو میں علاقائی پیش رفت پر تبادلہ خیال کیا۔
لبنان میں امن دستوں پر حملے کی مذمت
اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے لبنان میں یونیفل کے ایک امن سپاہی کے قتل کی شدید مذمت کی ہے۔ کونسل کے 15 ارکان نے مشترکہ بیان میں کہا کہ امن سپاہی مارٹر گولوں کے حملے میں شدید زخمی ہونے کے بعد جانبر نہ ہو سکا، جبکہ دو دیگر امن سپاہی بھی اس حملے میں زخمی ہوئے۔ سلامتی کونسل نے اس واقعے کی “فوری تحقیقات” اور ذمہ داروں کو “بغیر کسی تاخیر کے جوابدہ” ٹھہرانے کا مطالبہ کیا ہے۔
بحران کا تسلسل
یہ واقعات مشرق وسطیٰ میں جاری اس پیچیدہ بحران کا حصہ ہیں جہاں ایک جانب امن معاہدے کی امیدیں اور دوسری جانب میدان جنگ میں ہونے والی جھڑپیں صورتحال کو غیر یقینی بنا رہی ہیں۔ امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) نے تصدیق کی ہے کہ اس کی افواج نے آبنائے ہرمز میں تجارتی بحری جہازوں کو نشانہ بنانے والے ایرانی ڈرونز کو مار گرایا، جس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ سفارتی پیش رفت کے باوجود زمینی حقائق بدستور کشیدہ ہیں۔
