اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس سردار محمد صفدر ڈوگر کے وکیل امامہ زینب مظہری ہزار سے نامناسب رویے پر ملک بھر کے قانونی حلقوں میں شدید ردعمل سامنے آیا ہے۔ لاہور، کراچی اور بلوچستان بار ایسوسی ایشنز نے چیف جسٹس کے استعفیٰ اور برطرفی کا مطالبہ کرتے ہوئے ان کے رویے کو “پدرانہ ذہنیت” اور “عدالتی وقار کے منافی” قرار دیا ہے۔
معاملہ اس وقت سنگین شکل اختیار کر گیا جب گذشتہ روز عدالتی کارروائی کے دوران چیف جسٹس نے وکیل امامہ مظہری کو توہین عدالت کا نوٹس دیتے ہوئے ان کے خلاف دھمکی آمیز زبان استعمال کی۔ عدالت کے اندر کیے گئے تبصرے میں کہا گیا کہ “اگر میں نے تمہیں پکڑ لیا تو۔۔۔” جس پر بعد میں چیف جسٹس نے کہا کہ ان کے الفاظ کو سیاق و سباق سے ہٹ کر پیش کیا گیا۔
چیف جسٹس نے جمعے کو اپنے موقف کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ امامہ مظہری ان کے لیے “بیٹی کے مانند” ہیں اور وہ صرف انہیں سمجھا رہے تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ “بطور چیف جسٹس اور بزرگ میں انہیں سمجھانے کی کوشش کر رہا تھا”۔ تاہم امامہ مظہری نے اس وضاحت کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ وہ نہ تو ان کی بیٹی ہیں اور نہ ہی بچی، بلکہ ایک پیشہ ور وکیل ہیں۔
وکلاء کی تنظیموں نے اس واقعے پر سخت تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ عدالت میں وکلاء کے ساتھ ایسا رویہ ان کے پیشہ ورانہ حقوق کی خلاف ورزی ہے۔ لاہور ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن نے سپریم جوڈیشل کونسل سے چیف جسٹس کی برطرفی کا مطالبہ کیا ہے جبکہ کراچی بار ایسوسی ایشن نے اس رویے کو “عدالتی نظام کے تقدس کے منافی” قرار دیا۔
خواتین وکلاء کی ایک بڑی تعداد نے بھی اس واقعے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ چیف جسٹس کے تبصرے “جنسی تعصب پر مبنی اور دھمکی آمیز” تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ “توہین عدالت کے قوانین کا مقصد انصاف کی عملداری کو یقینی بنانا ہے، نہ کہ وکلاء کے سر پر تلوار لٹکانا”۔
اس واقعے نے عدالتی حلقوں میں ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے جس میں عدالت اور بار کے باہمی تعلقات میں باوقار رویے کی اہمیت پر زور دیا جا رہا ہے۔
