کٹھمنڈو: نیپالی فوج نے بدھ کے روز دارالحکومت کٹھمنڈو کی سڑکوں پر مکمل کنٹرول حاصل کر لیا، جس کے ایک روز قبل ہونے والے پرتشدد مظاہروں کے بعد وزیر اعظم کے پی شرما اولی نے استعفیٰ دے دیا تھا۔
حالات اس وقت خراب ہونا شروع ہوئے جب پولیس نے حکومتی مخالف مظاہرین پر زبردست کریک ڈاؤن کیا، جس کے نتیجے میں کم از کم 19 افراد ہلاک اور سینکڑوں زخمی ہو گئے۔ مظاہرین کا کہنا تھا کہ وہ حکومتی کرپشن اور سوشل میڈیا پر پابندی کے خلاف احتجاج کر رہے ہیں۔
وزیر اعظم کے استعفیٰ اور پولیس زیادتیوں کی تحقیقات کے وعدے کے باوجود نوجوانوں کا غم و غصہ کم ہونے کے بجائے اور بڑھ گیا۔ منگل کے روز “جنریشن زیڈ” کے نام سے متحرک نوجوانوں نے کرفیو کے باوجود سرعام احتجاج جاری رکھا اور سرکاری عمارتوں، سیاسی رہنماؤں کے گھروں اور پارلیمنٹ کو نذر آتش کر دیا۔
کٹھمنڈو کے ہوائی اڈے کو منگل سے بند کر دیا گیا ہے اور اندازہ ہے کہ یہ بدھ کو شام تک کھلے گا۔ فوج کے ترجمان نے متنبہ کیا ہے کہ وہ کسی بھی قسم کے تخریب کاری، لوٹ مار یا تشدد کو برداشت نہیں کریں گے۔
73 سالہ وزیر اعظم اولی، جو 2015 سے چار بار حکومت سنبھال چکے ہیں، نے کہا کہ وہ “ملک کو سیاسی حل کی طرف لے جانے” کے لیے استعفیٰ دے رہے ہیں۔ نیپال کے صدر رام چندر پوڈیل نے بھی تمام فریقوں سے پرامن حل کے لیے تعاون کی اپیل کی ہے۔
بین الاقوامی برادری بشمول اقوام متحدہ اور ہمسایہ ملک بھارت نے بھی نیپال میں امن و استحکام کی اہمیت پر زور دیا ہے۔ فی الحال ملک کی سیاسی صورتحال غیر یقینی ہے اور نئے وزیر اعظم کے تقرر تک تشویش کی فضا برقرار ہے۔




