آئی ایس پی آر کا اعلان
پاکستان کی مسلح افواج نے خیبر پختونخوا کے ضلع شمالی وزیرستان میں دو علیحدہ انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز کے دوران سات دہشت گردوں کو جھونک دیا ہے۔ فوج کے میڈیا ونگ، انٹر سروسز پبلک ریلیشنز (آئی ایس پی آر) نے منگل کو ایک بیان میں اس کارروائی کی تصدیق کی۔
میر علی اور سپنوام میں کارروائیاں
بیان کے مطابق، سیکیورٹی فورسز نے میر علی علاقے میں ایک انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن کیا۔ کارروائی کے دوران فوجی دستوں نے بھارتی پراکسی فتنہ الخوارج کے ٹھکانے پر مؤثر انداز میں فائرنگ کی، جس کے بعد زبردست فائرنگ کے تبادلے میں چھ دہشت گردوں کو “جہنم واصل” کر دیا گیا۔
اسی طرح سپنوام علاقے میں ایک اور آئی بی او کے دوران فائرنگ کے تبادلے میں ایک مزید دہشت گرد کو بھی مؤثر طریقے سے نیوٹرلائز کر دیا گیا۔
ہتھیار برآمد اور دہشت گرد سرگرمیاں
ہلاک ہونے والے بھارتی سرپرستی یافتہ خوارج سے ہتھیار اور گولہ بارود بھی برآمد ہوئے ہیں۔ آئی ایس پی آر کے مطابق، یہ دہشت گرد سیکیورٹی فورسز، قانون نافذ کرنے والے اداروں کے خلاف متعدد دہشت گردانہ کارروائیوں اور معصوم شہریوں کی ٹارگٹ کلنگ میں ملوث تھے۔
سانٹائزیشن اور عزم استحکام
بیان میں کہا گیا ہے کہ علاقے میں موجود کسی بھی دیگر بھارتی سرپرستی یافتہ خارجی کو ختم کرنے کے لیے سینی ٹائزیشن آپریشنز جاری ہیں۔ سیکیورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی جانب سے “عزم استحکام” کے وژن کے تحت جاری بے رحم اینٹی ٹیررازم مہم اپنی پوری رفتار سے جاری رہے گی تاکہ ملک سے بیرونی سرپرستی یافتہ دہشت گردی کے خاتمے کو یقینی بنایا جا سکے۔
دہشت گردی میں اضافہ اور خطے کی صورتحال
یہ کارروائیاں ایسے وقت میں سامنے آئی ہیں جب 2021 میں افغان طالبان کی حکومت کے قیام کے بعد سے پاکستان، خاص طور پر سرحدی صوبوں خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں دہشت گردانہ حملوں میں تیزی سے اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ ایک پولیس رپورٹ کے مطابق، صرف خیبر پختونخوا میں 2025 کے پہلے آٹھ مہینوں میں 600 سے زائد دہشت گردانہ واقعات ریکارڈ کیے گئے، جن میں کم از کم 79 پولیس اہلکاروں کے ساتھ ساتھ 138 شہری بھی شہید ہوئے۔
پاکستان نے بارہا کابل میں افغان طالبان حکومت پر زور دیا ہے کہ وہ اپنی زمین کو پاکستان کے خلاف دہشت گردوں کے استعمال سے روکے۔ یہ مسئلہ حال ہی میں سرحد پار حملوں کے نتیجے میں کشیدگی کا باعث بنا، جس کے جواب میں پاکستانی فورسز نے بھی کارروائی کی۔
