یورپی یونین کا پہلا جوابی اقدام
یورپی پارلیمنٹ نے منگل کے روز امریکہ کے ساتھ طے پانے والے تجارتی معاہدے کی توثیق کا عمل معطل کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ یہ اقدام صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے یورپی ممالک پر گرین لینڈ کی خریداری کے حوالے سے نئے تجارتی پابندیاں عائد کرنے کی دھمکیوں کے جواب میں اٹھایا گیا ہے۔
معاہدے کی تفصیلات اور اثرات
یہ تجارتی معاہدہ جو 2025 کے موسم گرما میں طے پایا تھا، یورپ سے امریکہ برآمدات پر 15 فیصد ٹیرف عائد کرتا ہے جبکہ امریکہ سے یورپ برآمدات پر تمام ٹیرف ختم کرتا ہے۔ معاہدے کی توثیق کو روکنا یورپی یونین کی جانب سے امریکی دباؤ کے خلاف پہلا واضح ردعمل سمجھا جا رہا ہے۔
ٹرمپ کی دھمکیوں کی نوعیت
امریکی صدر نے ڈنمارک کے خودمختار علاقے گرین لینڈ پر قبضے کے ارادے کا اظہار کرتے ہوئے آٹھ یورپی ممالک پر نئے ٹیرف عائد کرنے کی دھمکی دی ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ یہ اضافی 10 فیصد ٹیرف یکم فروری سے نافذ ہوں گے اور یکم جون تک 25 فیصد تک بڑھ سکتے ہیں۔
- ڈنمارک
- فن لینڈ
- فرانس
- جرمنی
- نیدرلینڈز
- ناروے
- سویڈن
- برطانیہ
یورپی رہنماؤں کے ردعمل
پی پی ای گروپ کے سربراہ مانفریڈ ویبر کے مطابق امریکی کمپنیوں کو یورپی مارکیٹ میں بغیر ٹیرف کے داخلے سے روکنا “ایک طاقتور ہتھیار” ہے۔ رینیو گروپ کی صدر ویلری ہائر نے بھی اسے “انتہائی طاقتور لیور” قرار دیتے ہوئے کہا کہ امریکی کمپنیاں یورپی مارکیٹ سے دستبردار ہونے پر راضی نہیں ہوں گی۔
سیاسی جماعتوں میں اختلافات
اگرچہ سوشل ڈیموکریٹس اور دیگر مرکزی دھارے کی جماعتوں نے معاہدے کے التواء کی حمایت کی ہے، لیکن انتہائی دائیں بازو کی جماعتوں میں اس فیصلے پر اختلافات پائے جاتے ہیں۔ ای سی آر گروپ کے شریک صدر نکولا پروکاچینی نے اس اقدام کو “غلطی” قرار دیا ہے۔
مستقبل کے اقدامات پر بحث
یورپی پارلیمنٹ میں سیاسی جماعتیں گرین لینڈ کے معاملے پر ٹرمپ کی دھمکیوں کے خلاف مزید اقدامات پر متفق نہیں ہیں۔ پی پی ای گروپ نے “تناو میں کمی” کی اپیل کرتے ہوئے یورپی اینٹی کوئرشن میکانزم کے استعمال سے گریز کا اظہار کیا ہے، جبکہ دیگر جماعتیں اس “اقتصادی بازوکا” کے استعمال کی حمایت کر رہی ہیں۔
