تنہا عدالت میں
پیرس کی اپیل کورٹ میں منگل کے روز مارین لی پن کا مقابلہ ایک طویل عدالتی بازپرس سے ہوا۔ نیلے رنگ کے بزنس سوٹ میں کھڑی، قومی اجتماع کی سابق صدر نے جج کے سوالات کا سامنا کیا اور جوابی وار کیا۔ یہ کارروائی یورپی پارلیمانی معاونین کے معاملے میں چل رہی ہے جس میں 2004 سے 2016 تک پارٹی کارکنوں کو یورپی پارلیمنٹ کے فنڈز سے ادائیگیوں کا الزام ہے۔
نئی دفاعی حکمت عملی
گزشتہ ہفتے عدالت میں پیشی کے دوران لی پن نے کم جارحانہ رویہ اپنایا تھا۔ انہوں نے کہا تھا کہ “اگر کوئی جرم ہوا ہے – اور سب یہی کہہ رہے ہیں – تو میں اسے سننے کو تیار ہوں۔” تاہم منگل کے روز جج کی براہ راست پوچھ پر ان کا جواب مبہم تھا۔ انہوں نے کہا کہ “یہ واقعات مختلف نوعیت کے ہیں اور میرے معاملے میں بارہ سال پر محیط ہیں۔”
“نظام” کے وجود سے انکار
لی پن نے اپنی پیشی کے دوران واضح کیا کہ وہ انفرادی مسائل سے انکار نہیں کرتیں، لیکن کسی منظم “سسٹم” کے وجود کو مسترد کرتی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ “لفظ نظام مجھے پریشان کرتا ہے کیونکہ اس سے دھوکہ دہی کا تاثر ملتا ہے۔”
الزامات کا جواب
اپنے دفاع میں لی پن نے متعدد فریقوں کی طرف انگلی اٹھائی:
- یورپی پارلیمنٹ جس نے کبھی اعتراض نہیں کیا
- ان کے والد ژاں ماری لی پن جو 2014 تک فنڈز کی نگرانی کرتے تھے
- سابق ساتھیوں کے بیانات جنہیں انہوں نے “جھوٹ کا پلندہ” قرار دیا
عدالتی دباؤ
جیسے جیسے کارروائی آگے بڑھی، لی پن پر دباؤ بڑھتا گیا۔ ای میلز اور پیغامات پیش کیے گئے تو ان کی بے چینی واضح ہوتی گئی۔ جولین اودول کے معاملے میں، جو ان کے دفتر کے خصوصی مشیر بھی تھے اور یورپی معاون بھی، لی پن الجھن کا شکار ہوگئیں۔ جج نے انہیں یاد دلایا کہ “یہ تو عدالت کا بنیادی معاملہ ہے۔”
آئندہ چیلنجز
بدھ کو اپنی آخری پیشی کے لیے لی پن کو مزید توانائی اور فصاحت کی ضرورت ہوگی۔ یہ مقدمہ فرانسیسی سیاسی منظر نامے پر دور رس اثرات مرتب کرسکتا ہے، خاص طور پر قومی اجتماع پارٹی کے مستقبل کے حوالے سے۔

