ڈیوس میں مارک کارنی کی تقریر کے بعد امریکی صدر کا فیصلہ
واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کینیڈا کو اپنے قائم کردہ ’بورڈ آف پیس‘ میں شمولیت کی دعوت واپس لے لی ہے۔ یہ فیصلہ کینیڈا کے وزیراعظم مارک کارنی کی عالمی اقتصادی فورم ڈیوس میں کی گئی تقریر کے بعد آیا جس میں انہوں نے طاقتور ممالک پر اقتصادی ہتھیاروں کے استعمال پر تنقید کی تھی۔
ٹرمپ کا کارنی کو ’ٹرتھ سوشل‘ پیغام
ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ٹرتھ سوشل‘ پر لکھا: ”یہ خط خدمت میں اس بات کی نمائندگی کرتا ہے کہ بورڈ آف پیس آپ کو کینیڈا کی شمولیت کی دعوت واپس لے رہا ہے۔ یہ بورڈ کسی بھی وقت کے رہنماﺅں کا سب سے معزز بورڈ ہوگا۔“ دونوں دفاتر نے تبصرے سے گریز کیا۔
ڈیوس میں کارنی کی تقریر اور امریکی ردعمل
وزیراعظم کارنی نے ڈیوس میں اپنی تقریر میں کہا تھا کہ کینیڈا جیسے ’درمیانی طاقت‘ کے ممالک امریکی بالادستی سے بچنے کے لیے مل کر کام کر سکتے ہیں۔ انہیں اس تقریر پر کھڑے ہو کر داد دی گئی۔ ٹرمپ نے جواباً کہا: ”کینیڈا صرف امریکہ کی وجہ سے زندہ ہے۔ مارک، اگلی بار بیان دیتے وقت اس بات کو یاد رکھیں۔“
بورڈ آف پیس کی شرائط اور اراکین
ٹرمپ نے جمعرات کو اس بورڈ کا باقاعدہ آغاز کیا جس کا مقصد غزہ میں جنگ بندی کو مستحکم کرنا بتایا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مستقل رکن ممالک کو بورڈ کی فنڈنگ کے لیے ایک ارب ڈالر ادا کرنا ہوں گے۔ ان کا کہنا تھا: ”ایک بار جب یہ بورڈ مکمل طور پر تشکیل پا جائے گا، ہم تقریباً وہ سب کچھ کر سکتے ہیں جو ہم کرنا چاہتے ہیں۔“
- بورڈ کے قیام کی منظوری اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے ٹرمپ کے غزہ امن منصوبے کے حصے کے طور پر دی ہے۔
- رکن ممالک میں ارجنٹائن، بحرین، مراکش، پاکستان اور ترکی شامل ہیں۔
- برطانیہ، فرانس اور اٹلی جیسے اتحادی ممالک نے فی الحال شمولیت سے انکار کر دیا ہے۔
بین الاقوامی ردعمل اور مستقبل کے امکانات
اقوام متحدہ کے ترجمان رولانڈو گومز نے کہا ہے کہ اقوام متحدہ کا تعلق صرف غزہ امن منصوبے کے تناظر میں ہوگا۔ یہ اقدام عالمی سطح پر امریکی خارجہ پالیسی میں ایک نئی سمت کی نشاندہی کرتا ہے جس میں اقتصادی شرائط کو اہمیت دی جا رہی ہے۔
