اسرائیلی وزیراعظم بینجمن نیٹن یاہو نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ’امن کونسل‘ میں شمولیت کی دعوت قبول کرلی ہے۔
اسرائیلی وزیراعظم کے دفتر نے بدھ کے روز اس بات کی تصدیق کی۔ یہ کونسل ابتدائی طور پر غزہ پٹی کی تعمیر نو کی نگرانی کے لیے بنائی گئی تھی، جو اسرائیل اور حماس کے درمیان دو سال سے زائد جنگ کی تباہیوں سے دوچار ہے۔ تاہم، ڈونلڈ ٹرمپ کے پیش کردہ ’چارٹر‘ کے منصوبے کے مطابق، اس کونسل کا دائرہ کار اب دنیا بھر میں مسلح تنازعات کے حل میں معاونت تک وسیع ہوگیا ہے۔
کونسل کے وسیع تر اختیارات
ٹرمپ کی جانب سے پیش کردہ دستاویز کے مطابق، اس کونسل کے صدر کی حیثیت سے انہیں انتہائی وسیع اختیارات حاصل ہوں گے۔ یہ ادارہ اب اقوام متحدہ کے متبادل کے طور پر کام کرے گا، جس کا بنیادی مقصد عالمی تنازعات کے پرامن حل میں کردار ادا کرنا ہوگا۔
یورپی ممالک کی مخالفت اور کشیدگی
فرانس سمیت متعدد یورپی ممالک نے اس کونسل میں شمولیت سے انکار کر دیا ہے۔ صدر ایمانویل میکخواں کے ’اس مرحلے پر‘ شمولیت سے انکار کے بعد، صدر ٹرمپ نے فرانسیسی شراب اور شیمپین پر 200 فیصد اضافی ٹیکس لگانے کی دھمکی دی ہے۔
- فرانس نے نیٹو کی جانب سے گرین لینڈ میں فوجی مشقوں کا مطالبہ کیا ہے۔
- یورپی رہنما ٹرمپ کی گرین لینڈ کے حصول کی کوششوں کو نیٹو اتحاد کے لیے خطرہ قرار دے رہے ہیں۔
- سابق یورپی کمشنر تھیری بریٹن نے خبردار کیا ہے کہ اگر یورپی یونین ٹرمپ کی دھمکیوں کے سامنے ’نہ جاگا‘ تو وہ امریکہ اور چین کے درمیان پِس جائے گا۔
دیگر ترقیات
ڈیوس میں منعقدہ عالمی اقتصادی فورم میں شرکت کے لیے صدر ٹرمپ کی آمد متوقع ہے، جہاں وہ یورپی رہنماؤں سے ملاقات کریں گے۔ روسی ایلچی کریل دمتریف نے یوکرین کے حوالے سے امریکی نمائندوں کے ساتھ ’تعمیری‘ مذاکرات کی اطلاع دی ہے۔
اس دوران، گرین لینڈ کے وزیراعظم جینس فریڈرک نیلسن نے اپنے شہریوں سے ممکنہ فوجی مداخلت کے لیے تیار رہنے کی اپیل کی ہے۔ لیتھوانیا کے صدر گیٹاناس ناؤسیڈا نے کہا ہے کہ کسی اتحادی کے خلاف امریکی فوجی کارروائی ’نیٹو کے خاتمے‘ کے مترادف ہوگی۔

