اورکزئی اور خیبر اضلاع میں انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز کامیاب
پاکستان کی سیکیورٹی فورسز نے خیبرپختونخوا کے دو اضلاع میں انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز کے دوران بھارتی پراکسی فتنہ الخوارج سے تعلق رکھنے والے 24 دہشت گردوں کو ہلاک کر دیا ہے۔ فوج کے میڈیا ونگ انٹر سروسز پبلک ریلیشنز نے جمعے کو یہ معلومات جاری کیں۔
آپریشنز کی تفصیلات
آئی ایس پی آر کے مطابق، خوارج کی موجودگی کی اطلاعات پر اورکزئی ڈسٹرکٹ میں ایک انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن کیا گیا۔ آپریشن کے دوران سیکیورٹی فورسز نے دہشت گردوں کے ٹھکانے پر کارروائی کی اور فائرنگ کے تبادلے کے بعد 14 دہشت گرد ہلاک ہو گئے۔
اسی طرح خیبر ڈسٹرکٹ میں کیے گئے دوسرے آپریشن میں مزید 10 خوارج کو جھڑپ کے بعد نیوٹرلائز کر دیا گیا۔ آئی ایس پی آر کا کہنا تھا کہ علاقے میں کسی بھی دیگر بھارتی سرپرستی یافتہ خارجی کو ختم کرنے کے لیے سینیٹائزیشن آپریشنز جاری ہیں۔
عزم استحکام اور مسلسل مہم
فوج کے میڈیا ونگ نے واضح کیا کہ بیرونی سرپرستی یافتہ دہشت گردی کے خلاف عزم استحکام کے وژن کے تحت بلاامتیاز کنٹر ٹیررازم مہم اپنی پوری رفتار پر جاری رہے گی۔ یہ آپریشنز آپریشن رد الفتنہ 1 کے بعد کیے گئے ہیں، جس میں کم از کم 216 دہشت گرد ہلاک ہوئے تھے۔
گزشتہ سال کی کارروائیوں کا جائزہ
آئی ایس پی آر کے ڈائریکٹر جنرل لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے گزشتہ ماہ ایک پریس بریفنگ میں بتایا تھا کہ 2025 میں ملک بھر میں قانون نافذ کرنے والے اداروں نے 75,175 انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز کیے تھے۔
- خیبرپختونخوا میں 14,658 آپریشنز
- بلوچستان میں 58,778 آپریشنز
- ملک کے دیگر حصوں میں 1,739 آپریشنز
انہوں نے یہ بھی بتایا کہ گزشتہ سال ملک بھر میں 5,397 دہشت گردی کے واقعات رپورٹ ہوئے، جن میں سے 3,811 واقعات خیبرپختونخوا میں پیش آئے۔
خطے میں دہشت گردی کے چیلنجز
پاکستان میں 2021 میں افغانستان میں طالبان کی حکومت قائم ہونے کے بعد سے سرحد پار دہشت گردی کے واقعات میں اضافہ دیکھا گیا ہے۔ افغانستان سے ملحقہ صوبے خیبرپختونخوا اور بلوچستان ان حملوں سے خاصے متاثر ہوئے ہیں۔ بلوچستان کے وزیر اعلیٰ سرفراز بگٹی نے بھی اس بات کی نشاندہی کی ہے کہ افغان سرزمین کو پاکستان کے خلاف استعمال کیا جا رہا ہے۔
