حملے میں 31 سے زائد افراد شہید، درجنوں زخمی
اسلام آباد کے علاقے تارلے میں واقع امام بارگاہ خدیجہ الکبریٰ پر جمعہ کی نماز کے دوران ہونے والے خودکش دہشت گرد حملے کے بعد دنیا بھر سے مذمت کے بیانات سامنے آ رہے ہیں۔ حملے میں کم از کم 31 نمازی شہید جبکہ درجنوں زخمی ہوئے ہیں۔ ہسپتالوں میں ہنگامی حالت نافذ کر دی گئی ہے اور دارالحکومت میں سیکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے ہیں۔
امریکہ نے کہا: دہشت گردی کی ہر کارروائی ناقابل قبول
اسلام آباد میں امریکی سفارت خانے نے ایک بیان جاری کرتے ہوئے حملے کی سخت مذمت کی ہے۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ “دہشت گردی اور تشدد کی تمام کارروائیاں ناقابل قبول ہیں۔” امریکی چارج ڈی افیئرز نٹالی اے بیکر نے زخمیوں اور شہید ہونے والوں کے اہل خانہ سے اپنی ہمدردی کا اظہار کیا۔ سفارت خانے نے واضح کیا کہ شہریوں اور عبادت گاہوں کے خلاف تشدد کو کسی صورت جواز نہیں دیا جا سکتا۔
برطانوی ہائی کمشنر نے کہا: ‘سخت غمگین اور دکھی’
پاکستان میں برطانیہ کی ہائی کمشنر جین ماریوٹ نے کہا ہے کہ وہ اس ہولناک حملے سے “سخت غمگین اور دکھی” ہیں۔ انہوں نے شہید اور زخمی ہونے والوں کے لیے اپنی دعاؤں کا اظہار کیا۔ برطانوی سفیر نے اس قسم کے تشدد کو قابل نفرت قرار دیتے ہوئے پاکستانی عوام کے ساتھ یکجہتی کا اعلان کیا۔
چینی سفارت خانے کا اظہار یکجہتی
چینی سفارت خانے نے حملے میں جانی نقصان پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے۔ بیان میں شہید ہونے والوں کے اہل خانہ سے ہمدردی اور زخمیوں کے جلد صحت یاب ہونے کی دعا کی گئی۔ سفارت خانے نے زور دیا کہ چین اس مشکل وقت میں اپنے پاکستانی بھائیوں اور بہنوں کے ساتھ کھڑا ہے۔
ایرانی سفیر نے حملے کو ‘گھناؤنا فعل’ قرار دیا
پاکستان میں ایرانی سفیر رضا امیری مغادم نے اسلام آباد میں دہشت گرد حملے کی سخت مذمت کرتے ہوئے اسے ایک “گھناؤنا فعل” قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ اس حملے کے نتیجے میں درجنوں معصوم شہری شہید اور زخمی ہوئے ہیں۔ انہوں نے ایران کی حکومت اور عوام کی طرف سے یہ مذمت کا اظہار کیا۔
ترکی نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کے ساتھ کھڑے ہونے کا اعلان کیا
ترکی کے وزارت خارجہ نے اسلام آباد میں جمعہ کی نماز کے دوران مسجد پر ہونے والے دہشت گرد حملے کی سخت الفاظ میں مذمت کی۔ انقرہ نے شہید ہونے والوں کے اہل خانہ اور پاکستانی عوام سے اپنی ہمدردی کا اظہار کیا۔ ترکی نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کے ساتھ یکجہتی کا اعلان کیا۔
یورپی یونین کے سفیر نے گہرے صدمے کا اظہار کیا
پاکستان میں یورپی یونین کے سفیر ریمنڈاس کروبلس نے اسلام آباد میں خودکش حملے پر گہرے صدمے کا اظہار کرتے ہوئے اسے ایک “وحشیانہ فعل” قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ یورپی یونین دہشت گردی اور تشدد پسندی کی ہر قسم کی کارروائی کی سخت مذمت کرتا ہے۔
افغانستان نے بھی حملے کی مذمت کی
افغانستان کے وزارت خارجہ نے بھی اسلام آباد میں مسجد پر ہونے والے خودکش حملے کی سخت مذمت کی ہے۔ وزارت خارجہ کے ترجمان عبدالقہار بلخی نے کہا کہ کابل اس قسم کے حملوں کی مذمت کرتا ہے جو مقدس رسومات اور مساجد کی حرمت کو پامال کرتے ہیں اور نمازیوں اور معصوم لوگوں کو نشانہ بناتے ہیں۔
صدر زرداری اور وزیراعظم شہباز شریف کا اظہار تعزیت
صدر مملکت آصف علی زرداری نے دھماکے پر گہرے رنج و غم کا اظہار کرتے ہوئے شہید ہونے والوں کے اہل خانہ سے تعزیت کی۔ وزیراعظم شہباز شریف نے حملے کی مذمت کرتے ہوئے شہداء پر گہرے رنج کا اظہار کیا اور متاثرہ خاندانوں سے ہمدردی کی۔ وزیراعظم نے ذمہ داروں کی فوری شناخت اور گرفتاری کے احکامات جاری کیے ہیں۔
حملے کے بعد ریسکیو ٹیموں نے زخمیوں کو دارالحکومت کے مختلف ہسپتالوں میں منتقل کیا جبکہ سیکیورٹی فورسز نے علاقے کو سیل کر کے ثبوت جمع کرنے کا عمل شروع کر دیا ہے۔ عینی شاہدین کے مطابق حملہ آور نے مرکزی دروازے پر گارڈز کی طرف فائرنگ کی جس کے بعد اس نے اپنے آپ کو دھماکے سے اڑا لیا۔
