تہران نے اتوار کے روز واضح کر دیا کہ وہ واشنگٹن کے ساتھ جاری ایٹمی مذاکرات میں یورینیم افزودن کے عمل کو ترک کرنے پر تیار نہیں ہے، یہاں تک کہ اگر اس پر جنگ مسلط کر دی جائے۔ یہ موقف اس وقت سامنے آیا ہے جب امریکہ نے خطے میں اپنی فوجی طاقت میں اضافہ کر رکھا ہے۔
مذاکرات کے مثبت ہونے کے باوجود گہرے اختلافات
عمان میں جمعہ کو ہونے والے پہلے دور مذاکرات کے بعد، جسے دونوں فریقوں نے ’مثبت‘ قرار دیا، ایران اور امریکہ بات چیت جاری رکھنے پر رضامند ہیں۔ تاہم، ایران اپنی سرخ لکیروں پر قائم ہے اور صرف اپنے ایٹمی پروگرام پر بات کرنے کو تیار ہے، جبکہ امریکہ ایک وسیع تر معاہدے کا مطالبہ کر رہا ہے جس میں ایران کی بیلسٹک صلاحیتوں کی حد بندی اور اسرائیل مخالف مسلح گروہوں کو اس کی حمایت بند کرنا شامل ہو۔
ایرانی وزیر خارجہ کا سخت موقف
ایرانی وزیر خارجہ عباس آراغچی نے کہا، “یہاں تک کہ اگر ہم پر جنگ مسلط کر دی جاتی ہے، تو بھی ایران صدر ٹرمپ کے یورینیم افزودن ترک کرنے کے مطالبے کے آگے نہیں جھکے گا۔” انہوں نے یہ بھی کہا کہ ایران بین الاقوامی پابندیوں کے خاتمے کے عوض اپنے ایٹمی پروگرام کے حوالے سے “اعتماد سازی کے اقدامات” پر غور کر سکتا ہے۔
تاہم، انہوں نے امریکہ کی مذاکرات کی “سنجیدگی” پر سوال اٹھایا اور کہا کہ ایران “تمام اشاروں کا جائزہ لے گا اور بات چیت جاری رکھنے کا فیصلہ کرے گا۔” انہوں نے امریکی فوجی تعیناتی کو “خطرناک” قرار دینے سے انکار کرتے ہوئے کہا کہ “یہ ہمیں نہیں ڈراتی۔”
امریکی فوجی دباؤ اور علاقائی کشیدگی
امریکہ نے حال ہی میں خلیج میں ایک بڑی بحری طاقت تعینات کی ہے۔ امریکی ایلچی اسٹیو وٹکوف نے بحری جہاز ابراہم لنکن کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے صدر ٹرمپ کے “امن اور طاقت کے پیغام” پر زور دیا۔ صدر ٹرمپ نے گذشتہ کچھ مہینوں میں ایران کے خلاف فوجی مداخلت کی کئی دھمکیاں دی ہیں۔
آئندہ راستہ اور اسرائیلی موقف
ایرانی صدر مسعود پیشہ خیان نے ایکس (سابقہ ٹویٹر) پر لکھا کہ خطے کے دوست ممالک کی حمایت سے ہونے والے مذاکرات “ایک قدم آگے” ہیں۔ اگلے دور مذاکرات اگلے ہفتے کے شروع میں ہونے کی توقع ہے۔
دوسری جانب، اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو، جو بدھ کو واشنگٹن جا کر ایران کے خلاف سخت لکیر اپنانے کی وکالت کریں گے، کا مؤقف ہے کہ ایران کی بیلسٹک صلاحیتیں اور اسرائیل مخالف گروہوں کو اس کی حمایت “ہر قسم کی بات چیت میں شامل” ہونی چاہیے۔
اس تناؤ بھرے ماحول میں، عالمی برادری کی نظریں اگلے دور مذاکرات پر ہیں، جو خطے میں امن کے لیے فیصلہ کن ثابت ہو سکتے ہیں۔
