مسقط مذاکرات کے بعد تیز ہوتی ہوئی کشیدگی
عمان میں ہونے والے تازہ جوہری مذاکرات کے بعد ایرانی حکام کے بیانات میں نمایاں تبدیلی دیکھنے میں آئی ہے۔ وزیر خارجہ عباس آراغچی نے اتوار کو تہران میں منعقدہ ایک فورم کے دوران کہا کہ ایران ڈونلڈ ٹرمپ کے یورینیم افزودگی بند کرنے کے مطالبے پر کبھی راضی نہیں ہوگا، چاہے ملک پر جنگ ہی مسلط کر دی جائے۔
“کوئی ہمیں حکم نہیں دے سکتا”
آراغچی نے واضح کیا کہ “ایران نے اپنے پرامن جوہری پروگرام اور یورینیم افزودگی کے لیے بہت بھاری قیمت ادا کی ہے۔ ہم افزودگی پر اس لیے اصرار کرتے ہیں کیونکہ کسی کو بھی ہمیں یہ بتانے کا حق حاصل نہیں کہ ہمیں کیا کرنا چاہیے۔”
امریکی “سنجیدگی” پر سوالیہ نشان
وزیر خارجہ نے امریکہ کی مذاکراتی “سنجیدگی” پر بھی سوال اٹھائے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایران “تمام اشاروں کا جائزہ لے گا اور مذاکرات جاری رکھنے کا فیصلہ کرے گا۔” تاہم انہوں نے یہ بھی اشارہ دیا کہ بین الاقوامی پابندیاں اٹھانے کے بدلے ایران “جوہری پروگرام کے حوالے سے اعتماد سازی کے اقدامات” پر غور کر سکتا ہے۔
فوجی دھمکیوں سے بے خوفی کا اظہار
آراغچی نے امریکی فوجی تعیناتی کو بے اثر قرار دیتے ہوئے کہا کہ “یہ ہمیں خوفزدہ نہیں کرتی۔” یہ بیان اس وقت سامنے آیا جب امریکی ایلچی اسٹیو وٹکوف نے خلیج میں تعینات امریکی بحری جہاز ابراہم لنکن کا دورہ کیا تھا۔
دونوں طرف سے مثبت بیانات بھی
اس تناؤ کے باوجود، صدر ٹرمپ نے جمعہ کو مذاکرات کو “بہت اچھا” قرار دیا تھا، جبکہ ایرانی صدر مسعود پژوشکیان نے اتوار کو ایکس (سابقہ ٹویٹر) پر لکھا کہ “علاقائی دوست حکومتوں کی حمایت سے ہونے والے یہ مذاکرات ایک قدم آگے ہیں۔”
آئندہ مذاکرات کی تیاری
ہفتے کے روز آراغچی نے القاعدہ چینل کو دیے گئے انٹرویو میں کہا تھا کہ واشنگٹن کے ساتھ “جلد ہی” نئی مذاکراتی نشست منعقد کرنے پر اتفاق ہوا ہے، لیکن انہوں نے یہ بھی اعتراف کیا کہ “اعتماد قائم کرنے کے لیے ابھی طویل راستہ طے کرنا باقی ہے۔”
