فرانسیسی وزارت صحت نے تصدیق کی ہے کہ ملک میں پہلی بار ایک ایسے شیر خوار بچے میں ‘سیریولائیڈ’ زہر پایا گیا ہے جسے یاد کردہ دودھ پینے کے بعد ہسپتال میں داخل کرایا گیا تھا۔ یہ زہر اس وقت دنیا بھر میں بچوں کے دودھ کی مصنوعات کی واپسی کی لہر کا مرکز ہے۔
بچے کے نمونے میں زہر کی تصدیق
وزارت صحت کے مطابق، ‘پہلی بار پیشاب کے نمونے کے تجزیے میں سیریولائیڈ زہر مثبت آیا ہے’۔ تاہم، محکمہ نے واضح کیا کہ اس سے زہر اور بیماری کے درمیان سبب و اثر کا تعلق ثابت نہیں ہوتا۔ یہ معلومات ریڈیو فرانس کی تحقیاتی ٹیم نے بھی جاری کی تھیں۔
دنیا بھر میں مصنوعات واپس بلانے کا سلسلہ
یہ معاملہ دسمبر میں شروع ہوا جب نیسلے نے ساٹھ سے زائد ممالک میں درجنوں لات دودھ واپس بلائے، کیونکہ ان میں سیریولائیڈ زہر موجود ہونے کا امکان تھا۔ یہ زہر نوزائیدہ بچوں میں خطرناک قے اور دیگر پیچیدگیاں پیدا کر سکتا ہے۔ اس کے بعد دنیا بھر میں ڈینون اور لیکٹالیس جیسی بڑی کمپنیوں سمیت چھوٹے صنعت کاروں نے بھی اپنی مصنوعات واپس بلانا شروع کر دیں۔
فرانس میں تین اموات، مگر تعلق غیر یقینی
فرانس میں یاد کردہ دودھ پینے والے بچوں میں تین اموات اور دس ہسپتال میں داخلے کی اطلاعات ہیں، جو یورپ کا واحد متاثرہ ملک ہے۔ تاہم، صحت کے حکام نے پہلے ہی خبردار کر دیا تھا کہ زہر اور بیماری کے درمیان براہ راست تعلق ثابت کرنا مشکل ہو سکتا ہے۔ وزارت صحت کا کہنا ہے کہ یہ نتیجہ صرف اس بات کی تصدیق کرتا ہے کہ ‘متاثرہ بچہ اس زہر کے سامنے آیا تھا’، جو ‘مشاہدہ کیے گئے علامات کی وضاحت کر سکتا ہے’۔
بیلجیم میں بھی زہر کی موجودگی
گذشتہ دس دنوں میں بیلجیم میں آٹھ شیر خوار بچوں میں بھی سیریولائیڈ زہر پایا گیا تھا، جن میں صرف ہلکی علامات ظاہر ہوئی تھیں۔ اس معاملے میں تمام تجزیے بیلجیم کے مرکزی لیبارٹری میں کیے جا رہے ہیں۔ فرانس سمیت دیگر ممالک بچوں کے نمونے بھی وہیں بھیج رہے ہیں، کیونکہ فرانس میں اس زہر کو خطرناک سطح پر شناخت کرنے کے لیے کوئی مجاز لیبارٹری موجود نہیں ہے۔
کیس کی تفصیلات
وزارت صحت نے کیس کی مزید تفصیلات جاری نہیں کی ہیں۔ تاہم، ریڈیو فرانس کے مطابق یہ بچہ فروری کے شروع میں مونٹ پلیر کے ہسپتال میں ایک رات کے لیے داخل تھا اور اس نے گالیا (ڈینون) برانڈ کا دودھ پیا تھا۔ وزارت نے زور دیا ہے کہ زہر اور بیماری کے تعلق کا فیصلہ ‘ماہرین، معالجین اور زہریلے مادوں کے ماہرین’ ہی کر سکتے ہیں۔
