نیویارک کے میئر نے مداخلت کی، صدارتی ہدایت پر ایلمینا آغایوا کو رہائی ملی
نیویارک کے میئر زوران ممدانی نے جمعرات کو اعلان کیا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کولمبیا یونیورسٹی کی ایک طالبہ کو امیگریشن اینڈ کسٹمز انفورسمنٹ (آئی سی ای) کی حراست سے رہا کرنے کا حکم دیا ہے۔ میئر نے صدر سے رابطہ کر کے ایلمینا آغایوا کے معاملے پر فوری کارروائی کی اپیل کی تھی۔
میئر ممدانی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر لکھا، “میں ابھی صدر ٹرمپ سے بات کر کے آیا ہوں۔ میں نے انہیں ایلمینا آغایوا کے معاملے میں اپنی تشویش سے آگاہ کیا، جنہیں آج صبح آئی سی ای نے حراست میں لیا تھا۔ صدر نے مجھے اطلاع دی ہے کہ انہیں جلد رہا کر دیا جائے گا۔”
گمشدہ بچے کے بہانے داخل ہوئے تھے آئی سی ای اہلکار
یونیورسٹی کی عبوری صدر کلائر شپ مین نے بتایا کہ پانچ آئی سی ای اہلکاروں نے کیمپس سے باہر ایک رہائشی عمارت میں گمشدہ بچے کی تلاش کا بہانہ بنا کر بغیر وارنٹ داخل ہو کر طالبہ کو حراست میں لیا۔
انہوں نے یونیورسٹی کی ویب سائٹ پر جاری ایک ویڈیو بیان میں کہا، “ہمارے سیکورٹی کیمرے نے دکھایا کہ اہلکاروں نے کوریڈور میں گمشدہ بچے کی تصاویر دکھائیں۔ لیکن جب وہ اپارٹمنٹ کے اندر داخل ہوئے تو واضح ہو گیا کہ یہ جھوٹ تھا۔ یہ ہمارے طلبا اور عملے کے لیے یکسر ناقابل قبول اور خوفناک صورتحال تھی۔”
طالبہ نے انسٹاگرام پر سلامتی کی تصدیق کی
ایلمینا آغایوا، جو نیورو سائنسز کی طالبہ ہیں اور آذربائیجان سے تعلق رکھتی ہیں، نے اپنے انسٹاگرام اکاؤنٹ پر تصدیق کی کہ انہیں رہا کر دیا گیا ہے۔ انہوں نے لکھا، “میں ابھی باہر آئی ہوں… میں محفوظ ہوں۔”
کولمبیا ڈیلی اسپیکٹیٹر اور بی بی سی کی رپورٹس کے مطابق آغایوا کی حراست اور رہائی کا واقعہ امیگریشن پالیسیوں پر ہونے والی بحث کو دوبارہ مرکز میں لے آیا ہے۔
