انتظامیہ کے جنگی جواز پر سوالیہ نشان
امریکی محکمہ دفاع (پینٹاگون) کے عہدیداروں نے کانگریس کے اراکین کے سامنے بند دروازوں کے اجلاس میں اعتراف کیا ہے کہ ایسی کوئی انٹیلی جنس موجود نہیں ہے جس سے پتہ چلتا ہو کہ ایران نے امریکی افواج پر پہلے حملے کی منصوبہ بندی کی تھی۔
یہ معلومات دو ایسے ذرائع نے روئٹرز کے ساتھ شیئر کیں جو اس معاملے سے واقف ہیں۔ یہ بیان امریکی انتظامیہ کے اس کلیدی جنگی جواز کے برعکس ہے جس میں ایران کی جانب سے قریبی خطرے کا حوالہ دیا گیا تھا۔
ٹرمپ انتظامیہ کے متضاد بیانات
حملے سے ایک دن قبل، انتظامیہ کے عہدیداروں نے صحافیوں سے کہا تھا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جزوی طور پر اس لیے حملے کا فیصلہ کیا کیونکہ ایسے اشارے تھے کہ ایران مشرق وسطیٰ میں امریکی افواج پر “شاید پیشگی طور پر” حملہ کر سکتا ہے۔
تاہم، کانگریس کو دیے گئے بریفنگ میں پینٹاگون کے عہدیداروں نے واضح کیا کہ اگرچہ ایران کے بیلسٹک میزائل اور خطے میں اس کے پراکسی گروپس امریکی مفادات کے لیے خطرہ ہیں، لیکن ایران کی جانب سے پہلے حملے کی کوئی انٹیلی جنس نہیں ملی۔
ڈیموکریٹس کی جانب سے جنگ پر تنقید
ڈیموکریٹک اراکین کانگریس نے صدر ٹرمپ پر “انتخابی جنگ” مسلط کرنے کا الزام عائد کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ صدر نے امن مذاکرات کو ترک کرنے کے اپنے فیصلے کے جواز میں ثبوت پیش نہیں کیے۔
صدر ٹرمپ نے بغیر ثبوت کے یہ دعویٰ کیا تھا کہ ایران جلد ہی امریکہ کو بیلسٹک میزائل سے نشانہ بنانے کی صلاحیت حاصل کرنے والا تھا۔ تاہم، ذرائع کے مطابق یہ دعویٰ امریکی انٹیلی جنس رپورٹس سے مطابقت نہیں رکھتا۔
امریکی فوجی ہلاکتیں اور وسیع حملے
امریکی سنٹرل کمانڈ نے اتوار کو تصدیق کی کہ اس تنازعے میں تین امریکی فوجی ہلاک اور پانچ شدید زخمی ہوئے ہیں۔ محکمہ دفاع کے مطابق، امریکی فضائی اور بحری جہازوں نے ایران میں 1000 سے زیادہ اہداف کو نشانہ بنایا ہے، جس میں بی-2 اسٹیلتھ بمبار طیاروں کے ذریعے زیر زمین میزائل سہولیات پر بھاری بمباری بھی شامل ہے۔
حکومت ایران کے خاتمے پر شکوک و شبہات
ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی شہادت کے باوجود، کئی سینئر امریکی عہدیدار اس بات پر شکوک کا اظہار کر رہے ہیں کہ امریکہ اور اسرائیل کی فوجی کارروائی سے ایران میں قریبی مدت میں حکومت کا تختہ الٹ ہوگا۔
سی آئی اے کی جانب سے حملے سے پہلے وائٹ ہاؤس کو پیش کی گئی تشخیصات میں کہا گیا تھا کہ اگر خامنہ ای کی جگہ لی جاتی ہے، تو ان کی جگہ اسلامی انقلابی گارڈز کے سخت گیر عناصر یا اسی طرح کے سخت گیر علما لے سکتے ہیں۔
عوامی ردعمل اور سیاسی صورت حال
ایک روئٹرز/آئیپسوس پول کے مطابق، صرف 27 فیصد امریکیوں نے حملوں کی حمایت کی ہے، جبکہ 43 فیصد نے انہیں مسترد کیا ہے۔ ایران میں، صدر مسعود پزشکیان نے اعلان کیا ہے کہ سپریم لیڈر کے فرائض ایک قیادتی کونسل نے سنبھال لیے ہیں۔
اس دوران، صدر ٹرمپ نے ایران کے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ “اس موقع کو غنیمت جانیں اور اپنا ملک واپس لیں”۔ تاہم، انٹیلی جنس ذرائع کے مطابق، ایران کی موجودہ حکومت کا قریبی مستقبل میں خاتمہ بعید از قیاس ہے۔
