امریکی اسرائیلی حملوں کے بعد عالمی تیل کی قیمتوں میں اضافے کے معاشی اثرات کا جائزہ لینے کا فیصلہ
اسلام آباد: وزیراعظم شہباز شریف نے ایران پر امریکی اسرائیلی حملوں کے بعد عالمی تیل کی قیمتوں میں اضافے کے ملکی معیشت پر مرتب ہونے والے اثرات کی نگرانی کے لیے 18 رکنی اعلیٰ سطحی کمیٹی تشکیل دے دی ہے۔
وزیراعظم ہاؤس کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن کے مطابق یہ کمیٹی اس وقت تشکیل دی گئی ہے جب علاقائی صورتحال میں تبدیلی کے دوران بین الاقوامی تیل کی قیمتوں میں اضافے کا رجحان دیکھنے میں آیا ہے۔ نوٹیفکیشن میں کہا گیا ہے کہ وزیراعظم نے قیمتوں میں اتار چڑھاؤ کی نگرانی اور پاکستانی معیشت کے لیے تخفیفی حکمت عملی تیار کرنے کے لیے یہ باڈی تشکیل دی ہے۔
خلیجی تنازعہ اور عالمی منڈیوں پر اثرات
تیل کی قیمتیں پیر کے روز ایشیائی منڈیوں میں اچانک بڑھ گئیں اور اسٹاک گر گئے جب امریکہ اور اسرائیل کے ایران پر حملوں نے سرمایہ کاروں کو خام تیل سے بھرپور مشرق وسطیٰ میں طویل تنازعہ کے خدشے سے بھاگنے پر مجبور کر دیا۔
اسلامی جمہوریہ ایران پر حملے کے بعد برینٹ کروڈ میں 14 فیصد جبکہ ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ میں 12 فیصد تک اضافہ دیکھنے میں آیا، جس میں سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای سمیت دیگر اعلیٰ عہدیدار شہید ہوئے۔
ان بمباریوں کے نتیجے میں ہرمز کے آبنائے، جس سے عالمی سطح پر سمندری راستے سے منتقل ہونے والے تیل کا تقریباً 20 فیصد گزرتا ہے، مؤثر طریقے سے بند ہو گیا ہے اور متعدد جہازوں پر حملوں نے رسد کے خدشات کو ہوا دی ہے۔
کمیٹی کے فرائض اور ارکان
نوٹیفکیشن میں بتایا گیا ہے کہ وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کو کمیٹی کا کنوینر مقرر کیا گیا ہے۔ کمیٹی کے ارکان میں شامل ہیں:
- وزیرِ پٹرولیم اور وزیرِ بجلی
- وزیرِ مملکت برائے خزانہ
- گورنر اسٹیٹ بینک آف پاکستان
- پٹرولیم، بجلی اور خزانہ کے سیکرٹریز
- چیئرمین فیڈرل بورڈ آف ریونیو
- وزیراعظم کے خصوصی سیکرٹری
- چیئرمین آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی
- پاکستان ریفائنری لمیٹڈ کے منیجنگ ڈائریکٹر
- پاکستان اسٹیٹ آئل کے ہیڈ آف سپلائی چین
- پاکستان ایل این جی لمیٹڈ کے سربراہ
- ایس این جی پی ایل اور ایس ایس جی سی-ایل پی جی کے منیجنگ ڈائریکٹرز
- انٹر سروسز انٹیلی جنس اور انٹیلی جنس بیورو کے نمائندے
کمیٹی کے اہم ذمہ داریاں
نوٹیفکیشن کے مطابق کمیٹی مندرجہ ذیل امور پر توجہ مرکوز کرے گی:
- پٹرولیم مصنوعات کی فارورڈ اور فیوچر قیمتوں کی قریبی نگرانی
- موجودہ علاقائی تنازعہ کے تناظر میں سپلائی چین کی پیش گوئی کا جائزہ
- تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ کے مختصر اور درمیانی مدتی زرمبادلہ کے اثرات کا تعین
- پٹرولیم کی رسد میں رکاوٹ نہ آنے اور مارکیٹوں کو مناسب طور پر سپلائی یقینی بنانے کے اقدامات تجویز کرنا
- طویل تنازعہ کی صورت میں مالیاتی اثرات کا تفصیلی تجزیہ
- جنگ کے پاکستانی معیشت پر وسیع تر اثرات کا جائزہ
نوٹیٹفکیشن میں مزید کہا گیا ہے کہ کمیٹی روزانہ اجلاس کرے گی اور اپنی رپورٹ وزیراعظم کو پیش کرے گی۔ کمیٹی اپنے فرائض کی انجام دہی کے لیے اگر ضرورت ہوئی تو اضافی ارکان بھی شامل کر سکتی ہے۔ پٹرولیم ڈویژن کمیٹی کو نوٹیفائی کرے گا اور سیکرٹیریٹ سپورٹ فراہم کرے گا۔
