خلیج میں امریکی ٹینکر پر حملہ، آبنائے ہرمز ایران کے کنٹرول میں
ایرانی انقلابی گارڈز نے دعویٰ کیا ہے کہ انہوں نے خلیج کے شمالی حصے میں ایک امریکی ٹینکر کو نشانہ بنایا ہے جو اب آگ کی لپیٹ میں ہے۔ گارڈز کے ترجمان نے کہا کہ جنگ کے دوران آبنائے ہرمز سے گزرنے والے تمام بحری جہازوں کا کنٹرول اسلامی جمہوریہ ایران کے پاس ہوگا۔ یہ بیان ایرانی سرکاری میڈیا کے ذریعے جاری کیا گیا۔
ایرانی جنرل کا اعلان: “جنگ کی طوالت ہمارے لیے غیر اہم”
ایرانی فوج کے جنرل کیومرز حیدری نے کہا ہے کہ امریکہ اور اسرائیل کے خلاف جنگ چاہے کتنی ہی طویل ہو، تہران کے لیے اس کی کوئی اہمیت نہیں۔ انہوں نے الزام لگایا کہ ایرانی کرد ملیشیا نے حالیہ دنوں میں ایران کی سلامتی فورسز پر حملے کے بارے میں امریکہ سے مشاورت کی تھی۔ ایرانی وزارت داخلہ کا کہنا ہے کہ انہوں نے “علیحدگی پسند گروہوں” کو نشانہ بنایا ہے جنہوں نے مغربی سرحدوں کے ذریعے داخل ہونے کی کوشش کی۔
خطے اور عالمی ردعمل
- پاکستان: حکام نے تصدیق کی ہے کہ موجودہ سلامتی صورتحال کے باوجود ملک کے بندرگاہوں پر داخلے معطل نہیں کیے گئے۔
- بھارت: اپوزیشن جماعتوں نے وزیراعظم نریندر مودی پر “اسٹریٹجک خودمختاری” ترک کرنے کا الزام لگایا ہے۔
- انڈونیشیا: وزیر خارجہ سوگینو نے سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات سے الگ الگ فون پر بات چیت کرتے ہوئے تناؤ میں کمی کی اپیل کی۔
- عمان: جنگ کے خاتمے کی اپیل کرتے ہوئے شہریوں کے تحفظ کے انسانی حق کی تاکید کی گئی۔
امریکی اور اسرائیلی موقف
امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگسیتھ نے اسرائیلی وزیر دفاع اسرائیل کیٹز سے بات چیت میں کہا کہ وہ “آخر تک جاری رکھیں”، اس بات پر زور دیتے ہوئے کہ امریکہ اسرائیل کے ساتھ کھڑا ہے۔ اسرائیلی وزارت دفاع کے مطابق، کیٹز نے ایرانی میزائل کے خطرے کے خلاف اسرائیلی شہریوں کے دفاع میں امریکی امداد کا شکریہ ادا کیا۔
بین الاقوامی قانون اور امن کی کوششیں
انڈونیشیا کے وزیر خارجہ نے واضح کیا کہ ان کا ملک بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کے چارٹر کی پاسداری پر زور دیتا ہے۔ انہوں نے جانی نقصان پر افسوس کا اظہار کیا اور تناؤ میں کمی کی تمام کوششوں کی حمایت
