شہر کے متعدد علاقوں میں طوفانی بارش، ٹریفک متاثر
کراچی میں منگل کے روز موسلا دھار بارش اور تیز ہواؤں نے شہری زندگی کو متاثر کیا۔ سرجانی ٹاؤن، گلشنِ معمار، ایئرپورٹ، ملیر، ڈیفنس، کلفٹن اور صدر سمیت شہر کے بیشتر علاقوں میں بارش ریکارڈ کی گئی۔ محکمہ موسمیات کے مطابق ایئرپورٹ اور ملیر کے قریب تیز ہوائیں 47 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے چلیں۔
حکام کی ہنگامی اقدامات
شہری انتظامیہ نے صورتحال سے نمٹنے کے لیے کنٹرول رومز فعال کر دیے ہیں۔ کمشنر کراچی نے تمام ڈپٹی کمشنروں کو ہنگامی صورتحال میں فوری ردعمل کا پابند کیا ہے۔ عوام شکایات یا مدد کے لیے ہیلپ لائن 1299 پر رابطہ کر سکتے ہیں۔
- اضافی ڈی واٹرنگ پمپ نصب کیے گئے۔
- ممکنہ آبادی والے مقامات کی نشاندہی کی گئی۔
- عملے کو نگرانی کے لیے تعینات کیا گیا۔
وزیر کا عوام سے اپیل
سینئر وزیر شارجیل میمن نے کہا کہ شہریوں کی حفاظت حکومت کی اولین ذمہ داری ہے۔ انہوں نے عوام سے احتیاطی تدابیر اختیار کرنے، غیر ضروری سفر سے گریز کرنے اور کسی بھی ہنگامی صورت میں متعلقہ حکام سے فوری رابطہ کرنے کی اپیل کی۔
بارش کی مقدار اور موسمی تبدیلی
محکمہ موسمیات کے اعداد و شمار کے مطابق ایم-9 موٹروے پر 20.5 ملی میٹر، سرجانی ٹاؤن میں 12.6 ملی میٹر اور گلشنِ معمار میں 7.2 ملی میٹر بارش ریکارڈ ہوئی۔ محکمے کے ترجمان نے بتایا کہ گذشتہ چھ سے سات سالوں میں ملک کے موسمی پیٹرن تبدیل ہو رہے ہیں۔ گزشتہ سال اپریل میں کراچی میں کوئی بارش نہیں ہوئی تھی۔
کے الیکٹرک کی حفاظتی ہدایات
بارش کے پیش نظر کے الیکٹرک نے شہریوں کو احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی ہدایت کی ہے۔ کمپنی کے ترجمان نے کہا کہ صورتحال پر مسلسل نظر رکھی جا رہی ہے اور فیلڈ اسٹاف کو الرٹ پر رکھا گیا ہے۔ انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ تیز ہواؤں اور بارش کے دوران بجلی کے آلات استعمال کرتے وقت احتیاط برتیں۔
- کھڑے پانی میں واٹر پمپ استعمال نہ کریں۔
- بجلی کی ترسیل کے نظاموں سے محفوظ فاصلہ برقرار رکھیں۔
- کسی بھی بجلی کی ہنگامی صورت میں 118 کال سینٹر پر رابطہ کریں۔
سندھ میں جدید ایمرجنسی سروسز کا منصوبہ
سندھ کے وزیر اعلیٰ مراد علی شاہ کی زیر صدارت ہونے والی ایک میٹنگ میں صوبے کے ایمرجنسی نظام کو جدید اور مؤثر بنانے کے لیے 30.8 ارب روپے کے منصوبے کی منظوری دی گئی۔ اس منصوبے میں ریسکیو 1122 کی انضمام، جدید فائر فائٹنگ سازوسامان کی خریداری اور نئے فائر اسٹیشنز کا قیام شامل ہے۔
میٹنگ میں بتایا گیا کہ صوبے بھر میں 3,340 عمارتوں کے فائر سیفٹی آڈٹ مکمل کیے گئے ہیں اور تعمیل کی شرح 43 فیصد تک پہنچ گئی ہے۔ وزیر اعلیٰ نے زور دیا کہ جان و مال کی حفاظت حکومت کی اولین ترجیح ہے اور ایمرجنسی رسپانس سسٹم میں کوئی کوتاہی برداشت نہیں کی جائے گی۔
