کراچی: تیل کی قیمتوں میں تیزی سے کمی اور امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات کی بحالی کی امیدوں کے درمیان منگل کے روز پاکستان اسٹاک ایکسچینج (پی ایس ایکس) میں نمایاں بحالی دیکھنے میں آئی۔
انڈیکس میں تاریخی اضافہ
پی ایس ایکس کے بنچ مارک کے ایس ای 100 انڈیکس میں 4,092.15 پوائنٹس یا 2.55 فیصد کا اضافہ دیکھا گیا، جو 164,683.48 پوائنٹس تک پہنچ گیا۔ یہ اضافہ اس وقت سامنے آیا جب گذشتہ سیشن میں انڈیکس میں 6,600.05 پوائنٹس کی تاریخی گراوٹ ریکارڈ کی گئی تھی۔
بین الاقوامی عوامل کا اثر
ماہرین کے مطابق اس بحالی کی بنیادی وجوہات میں ایشیائی اسٹاک مارکیٹس میں اضافہ اور تیل کی قیمتوں میں کمی شامل ہیں۔ میاری سیکیورٹیز کے ڈائریکٹر حذیفہ ریاض نے کہا کہ “پی ایس ایکس میں اضافہ دیکھا گیا، جس کی وجہ ایشیائی اسٹاک مارکیٹس میں بہتری اور تیل کی قیمتوں میں کمی ہے۔”
امریکہ ایران مذاکرات اور پاکستان کا کردار
وزیراعظم شہباز شریف نے تصدیق کی ہے کہ پاکستان امریکہ اور ایران کے درمیان حل طلب مسائل کے حل کے لیے کوششیں جاری رکھے ہوئے ہے۔ گذشتہ ہفتے اسلام آباد میں دونوں ممالک کے وفود کے درمیان 20 گھنٹے سے زیادہ مذاکرات ہوئے، اگرچہ کوئی معاہدہ طے نہیں پایا۔
تیل کی قیمتوں میں تیزی سے گراوٹ
بین الاقوامی مارکیٹس میں تیل کی قیمتوں میں نمایاں کمی دیکھی گئی، جہاں برینٹ کروڈ 2.7 فیصد گر کر 96.66 ڈالر فی بیرل پر آگیا۔ امریکی خام تیل میں بھی 3 فیصد کی کمی ریکارڈ کی گئی۔ یہ کمی بنیادی طور پر امریکہ اور ایران کے درمیان ممکنہ مذاکرات کی امیدوں کی وجہ سے دیکھی گئی۔
سعودی ڈپازٹ کی اطلاعات
ماہرین کے مطابق پی ایس ایکس میں اضافے کی ایک اور اہم وجہ سعودی عرب سے ممکنہ ڈپازٹ کی اطلاعات ہیں، جنہوں نے سرمایہ کاروں کے اعتماد میں اضافہ کیا ہے۔ بلومبرگ کی رپورٹس کے مطابق پاکستان متحدہ عرب امارات کو 3 ارب ڈالر کی ادائیگی کے لیے مالی معاونت پر بات چیت کر رہا ہے۔
مستقبل کے امکانات
ایسوسی ایٹڈ پریس کی رپورٹس کے مطابق پاکستان نے امریکہ اور ایران کے درمیان دوسرے دور مذاکرات کی میزبانی کی تجویز پیش کی ہے، جو موجودہ جنگ بندی کے 21 اپریل کو ختم ہونے سے پہلے اسلام آباد میں منعقد ہوں گے۔ پاکستانی حکام کا کہنا ہے کہ گذشتہ ہفتے ہونے والے مذاکرات ایک مسلسل سفارتی عمل کا حصہ ہیں۔
گذشتہ کارکردگی
گذشتہ سیشن میں کے ایس ای 100 انڈیکس 6,600.05 پوائنٹس گر کر 160,591.33 پر بند ہوا تھا، جو 3.95 فیصد کی گراوٹ کی نمائندگی کرتا تھا۔ آج کی بحالی نے مارکیٹ میں ایک بار پھر مثبت رجحان پیدا کیا ہے۔
