واشنگٹن میں اسرائیلی سفیر کا فرانس کے لیے سخت موقف
واشنگٹن میں اسرائیلی سفیر یچیل لیٹر نے واضح الفاظ میں کہا ہے کہ اسرائیل فرانس کو لبنان کے ساتھ جاری مذاکرات سے “جتنا ممکن ہو دور” رکھنا چاہتا ہے۔ انہوں نے صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا، “یہ بات یقینی ہے کہ ہم فرانس کو ان مذاکرات میں مداخلت کرتے نہیں دیکھنا چاہتے۔”
فرانس کی تاریخی کردار کو مسترد کرنے کی کوشش
اسرائیلی موقف کے مطابق فرانس لبنان میں “غیر ضروری” ہے اور اس کا “کوئی مثبت اثر” نہیں ہے۔ یہ بیان اس تاریخی حقیقت کے برعکس ہے کہ فرانس لبنان میں طویل عرصے سے سیاسی اور سفاریتی طور پر سرگرم رہا ہے اور اس کے اہم روابط موجود ہیں۔
چار دہائیوں بعد براہ راست مذاکرات
14 اپریل کو واشنگٹن میں اسرائیلی اور لبنانی حکام نے تیس سال سے زائد عرصے بعد پہلی بار براہ راست بات چیت کی۔ امریکی ثالثی میں ہونے والی یہ مذاکرات “تعمیری” قرار دی گئی ہیں۔ لبنانی سفیر ندا حماد معوض نے جنگ بندی اور بے گھر ہونے والے شہریوں کی واپسی پر زور دیا ہے۔
فرانس سے تناؤ کی وجوہات
فرانس کا لبنان میں اسرائیلی فوجی کارروائیوں پر موقف اور فلسطینی ریاست کی تسلیم شدگی کی حمایت نے اسرائیل کے ساتھ تعلقات میں کشیدگی پیدا کی ہے۔ اسرائیل صرف امریکہ کی نگرانی میں براہ راست مذاکرات چاہتا ہے اور کسی تیسرے فریق کی شمولیت کو پسند نہیں کرتا۔
بین الاقوامی ردعمل
فرانس نے سترہ دیگر ممالک کے ساتھ مل کر اسرائیل اور لبنان سے اپیل کی ہے کہ وہ امریکی ثالثی میں ہونے والے ان مذاکرات کے موقع سے فائدہ اٹھائیں۔ تاہم، اسرائیل کی طرف سے فرانس کو دور رکھنے کی واضح پالیسی بین الاقوامی سفارت کاری میں ایک نئے تناؤ کی نشاندہی کرتی ہے۔
