جب وزیراعظم شہباز شریف نے سعودی عرب، قطر اور ترکی کے چار روزہ سفارتی دورے کا آغاز کیا تو اس کا مقصد خطے میں امن کے لیے پاکستان کی ثالثی کے کردار کو مضبوط کرنا تھا۔ لیکن سماجی میڈیا پر گفتگو کا محور ان کی پوشاک اور وضع قطع بن گئی۔
سفارتی مصروفیات کے درمیان فیشن کا چرچا
15 سے 18 اپریل تک جاری رہنے والے اس دورے میں وزیراعظم نے سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان، قطر کے امیر شیخ تمیم بن حمد آل ثانی اور ترکی کے صدر رجب طیب ایردوان سے اعلیٰ سطحی ملاقاتیں کیں۔ یہ دورہ اس وقت ہوا جب پاکستان امریکہ اور ایران کے درمیان پائیدار امن کے لیے اپنی کوششیں تیز کر رہا ہے۔ تاہم، بھاری بھرکم سفارتی گفتگو کے باوجود، صارفین کی توجہ وزیراعظم کی پوشاک پر مرکوز رہی۔
سماجی میڈیا پر وائرل ہوئی تصاویر
جدہ، دوحہ اور انٹالیہ ڈپلومیسی فورم سے جاری ہونے والی تصاویر آن لائن وائرل ہوئیں، جہاں صارفین نے وزیراعظم کے صاف ستھرے اور اچھی طرح سے فٹ ہونے والے مغربی سوٹوں کی تعریف کی۔ ایک صارف نے لکھا، “یہ دیکھنا خوش آئند ہے کہ ہمارے وزیراعظم عالمی سطح پر کس طرح پاکستان کی نمائندگی کر رہے ہیں۔”
نیو یارک ٹائمز کے کالم نے چھیڑی بحث
اس بحث کا آغاز اس وقت ہوا جب دی نیو یارک ٹائمز کے مصنف ڈیرک گائے نے غیر مغربی رہنماؤں کے مغربی رسمی لباس اپنانے کے رجحان پر روشنی ڈالی۔ پاکستانی صارفین بھی اس گفتگو میں شامل ہو گئے اور انہوں نے وزیراعظم کے نفیس ذوقِ ستائش کی تعریف کی۔
ایک تجزیہ کار نے کہا، “یہ ایک دلچسپ صورتحال ہے۔ ایک طرف پاکستان ایک نازک سفارتی مشن پر ہے، دوسری طرف عوام کی توجہ ان کی ظاہری شکل پر ہے۔ یہ دونوں پہلو مل کر ایک جدید قومی امیج کی تعمیر کر رہے ہیں۔”
امن مذاکرات اور قیادت کی تعریف
اس دوران، لندن کے میئر نے بھی ایران-امریکہ امن مذاکرات میں وزیراعظم شہباز شریف کی قیادت کی تعریف کی۔ واضح رہے کہ امریکی مذاکرات کاروں کے اگلے ہفتے اسلام آباد آنے کی تصدیق ہو چکی ہے، جس سے خطے میں پاکستان کے کردار کی اہمیت مزید بڑھ گئی ہے۔
اگرچہ وزیراعظم کا اسٹائل زیرِ بحث ہے، لیکن اس دورے کا بنیادی مقصد سفارتی اور اقتصادی تعلقات کو مضبوط بنانا تھا، جو کامیابی سے حاصل ہوا۔ تاہم، اس بات سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ جدید دور میں قائدین کی شخصی اور پیشہ ورانہ شبیہ بین الاقوامی تعلقات کا ایک اہم پہلو بن چکی ہے۔
