اسلام آباد: پاکستان نے ایران کو سامان کی ترسیل کے لیے ایک نیا ٹرانزٹ فریم ورک متعارف کراتے ہوئے چھ مخصوص تجارتی راستوں کی منظوری دے دی ہے۔ یہ اقدام وزارت تجارت کی جانب سے جاری کردہ ‘ٹرانزٹ آف گڈز تھرو ٹیریٹری آف پاکستان آرڈر 2026’ کے تحت عمل میں لایا گیا ہے۔
اس انتظام کے تحت ایران جانے والے سامان کو پاکستان کی سرزمین سے گزرنے کی اجازت ہوگی، جس کا مقصد دو طرفہ اور علاقائی تجارت کو فروغ دینا ہے۔ یہ اطلاع ‘دی نیوز’ نے اپنی رپورٹ میں دی ہے۔
طے شدہ راستے کون سے ہیں؟
آرڈر کے تحت درج ذیل چھ راستوں کو ٹرانزٹ ٹریڈ کے لیے نامزد کیا گیا ہے:
- گواڈر – گبد
- کراچی / پورٹ قاسم – لیاری – اورماڑہ – پسن – گبد
- کراچی / پورٹ قاسم – خضدار – دالبندین – تفتان
- گواڈر – تربت – ہوشاب – پنجگور – ناگ – بیسیمہ – خضدار – کوئٹہ / لک پاس – دالبندین – نوکنڈی – تفتان
- گواڈر – لیاری – خضدار – کوئٹہ / لک پاس – دالبندین – نوکنڈی – تفتان
- کراچی / پورٹ قاسم – گواڈر – گبد
ضابطے اور قوانین
اس نوٹیفکیشن کے تحت سامان کی نقل و حمل کو فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ف بی آر) کے مقرر کردہ طریقہ کار کے ساتھ ساتھ کسٹمز ایکٹ 1969 اور اس کے تحت بنائے گئے قواعد کے مطابق منظم کیا جائے گا۔
آرڈر میں واضح کیا گیا ہے کہ یہ انتظام ان سامان پر لاگو ہوگا جو کسی تیسرے ملک سے ایران کے لیے پاکستان کی سرزمین سے گزر کر جائیں گے۔ اس میں کسٹم سیکیورٹی کے طور پر ایک قابل واپسی مالی ضمانت بھی شامل ہے، جو درآمدی محصولات کے برابر ہوگی۔
پس منظر
یہ اقدام پاکستان اور ایران کے درمیان 29 جون 2008 کو طے پانے والے ‘بین الاقوامی مسافر اور سامان برائے سڑک نقل و حمل’ کے معاہدے کے آرٹیکل 2 کے تحت اٹھایا گیا ہے۔ اس آرڈر کو امپورٹس اینڈ ایکسپورٹس (کنٹرول) ایکٹ 1950 کے سیکشن 3 کے تحت اختیارات استعمال کرتے ہوئے جاری کیا گیا ہے۔
