کراچی: صوبہ سندھ کی حکومت نے کاروباری طبقے اور عوام کو بڑی سہولت فراہم کرتے ہوئے مارکیٹوں، شاپنگ مالز، ریستورانوں، ہوٹلوں اور شادی ہالز کو پہلے سے مقرر کردہ اوقات کار کی پابندی سے مستثنیٰ قرار دے دیا ہے۔
سینئر صوبائی وزیر شرجیل انعام میمن نے اپنے بیان میں کہا کہ اس فیصلے کا مقصد کاروباری سرگرمیوں کو فروغ دینا، شہریوں کو سہولت پہنچانا اور معاشی استحکام کو یقینی بنانا ہے۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ تاجر برادری ہماری معیشت کی ریڑھ کی ہڈی ہے۔
توانائی بچت پالیسی کے تحت لگائی گئی پابندیوں کا خاتمہ
یہ پابندیاں گزشتہ ماہ ملک بھر میں توانائی کے تحفظ کے اقدامات کے تحت عائد کی گئی تھیں، جس کی وجہ مشرق وسطیٰ میں تنازعے کے باعث ایندھن کی قیمتوں میں تیزی سے اضافہ تھا۔ وفاقی حکومت کی کفایت شعاری پالیسی کے تحت صوبائی حکومت نے بھی بجلی اور ایندھن کی کھپت کم کرنے کے لیے کاروباری اوقات کار محدود کیے تھے۔
جاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق، اب تمام دکانیں، مارکیٹیں، شاپنگ مالز، ہوٹل، ریستوران، فوڈ آؤٹ لیٹس، شادی ہال اور مارکیز اپنے معمول کے اوقات کار کے مطابق کام جاری رکھ سکیں گے۔
تاجروں کے تحفظات پر نظرثانی
وزیر اعلیٰ سندھ کے مشیر شرجیل میمن نے بتایا کہ یہ فیصلہ تاجروں اور صنعت کاروں کو درپیش مشکلات اور ان کی تجاویز پر غور کرنے کے بعد کیا گیا ہے۔ انہوں نے یقین دلایا کہ حکومت تاجر برادری کے مسائل کے حل کے لیے ہر ممکن اقدامات جاری رکھے گی۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ مشکل معاشی حالات کے باوجود حکومت نے عوام اور تاجر طبقے کے مفادات کا تحفظ کیا ہے۔
پہلے نافذ کردہ پابندیاں
سندھ حکومت کی جانب سے جاری سابقہ احکامات کے تحت، ڈویژنل ہیڈکوارٹرز کے علاوہ دیگر اضلاع میں تمام دکانیں، مارکیٹیں اور شاپنگ مالز ہفتے کے تمام دنوں میں رات 8 بجے بند کرنے کی ہدایت کی گئی تھی، جبکہ ڈویژنل ہیڈکوارٹرز میں یہ کاروبار رات 9 بجے تک کھلے رکھنے کی اجازت تھی۔
تاہم، ضروری خدمات جیسے تنور، دودھ اور ڈیری کی دکانیں، بیکریاں، میڈیکل اسٹورز، فارمیسی، میڈیکل لیبارٹریز، کلینک، ہسپتال اور فیول پمپس اس پابندی سے مستثنیٰ تھے۔
