سندھ کے ضلع جیکب آباد میں ایک آزادانہ شادی کے تنازعے نے پورے گاؤں کو تباہ کر دیا۔ دو مختلف برادریوں سے تعلق رکھنے والے لڑکے اور لڑکی کی مرضی کی شادی کے بعد مسلح افراد نے ایک پورے گاؤں پر حملہ کر کے 100 سے زائد گھروں کو آگ لگا دی۔
جوڑے نے حیدرآباد کی عدالت میں شادی کی
چنہ برادری سے تعلق رکھنے والی سدرہ نے بوریجو برادری کے محمد حسن بوریجو سے اپنی مرضی سے شادی کی۔ جوڑے نے ایک ویڈیو پیغام میں حکومت سے انصاف کی اپیل کرتے ہوئے بتایا کہ انہوں نے 4 مئی کو حیدرآباد کی ایک عدالت میں نکاح کیا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ شادی کے بعد انہیں مسلسل الزامات اور جان سے مارنے کی دھمکیوں کا سامنا ہے۔
گاؤں پر حملہ اور بے بسی کی داستان
بوریجو برادری کے گاؤں پر حملہ کرنے والے مسلح افراد نے اندھا دھند فائرنگ کی اور گھروں کو نذر آتش کر دیا۔ متاثرہ خاندان اب کھلے آسمان تلے زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔ ان کی زندگی بھر کی کمائی راکھ کے ڈھیر میں تبدیل ہو گئی۔
دولہا کے والد ملہار بوریجو نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے سوال اٹھایا کہ آخر پورے گاؤں کو سزا کیوں دی گئی؟ انہوں نے الزام لگایا کہ صدام بوریجو اور قبائلی رہنما احمد علی چنہ کی قیادت میں تقریباً 400 مسلح افراد نے حملہ کیا اور گھروں کو جلا ڈالا جبکہ گاؤں والے بے بس تماشائی بنے رہے۔
مقدمہ درج، 5 ملزمان گرفتار
پولیس نے واقعے کا مقدمہ 32 افراد کے خلاف انسداد دہشت گردی ایکٹ کے تحت درج کر لیا ہے اور اب تک 5 ملزمان کو گرفتار کیا جا چکا ہے۔ ایس ایس پی فیضان علی نے بتایا کہ دیگر ملزمان کی گرفتاری کے لیے چھاپے مارے جا رہے ہیں۔
دوسری جانب چنہ برادری نے ان الزامات کی تردید کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ ان کے گاؤں سے ایک نابالغ لڑکی کو اغوا کیا گیا ہے۔ لڑکی کے والد نے ایک ویڈیو بیان میں کہا کہ ان کی 14 سالہ بیٹی کی شادی سندھ چائلڈ میرج ریسٹرینٹ ایکٹ کی خلاف ورزی کرتے ہوئے کی گئی اور ملزمان ان کی 14 سالہ اور 4 سالہ دونوں بیٹیوں کو اغوا کر کے لے گئے ہیں۔
وزیراعلیٰ سندھ کا سخت نوٹس
وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے اس واقعے کا سختی سے نوٹس لیتے ہوئے اسے “غیر انسانی اور ناقابل برداشت فعل” قرار دیا ہے۔ انہوں نے کمشنر لاڑکانہ کو فوری طور پر متاثرہ خاندانوں کو امداد فراہم کرنے اور ڈی آئی جی لاڑکانہ کو مکمل تحقیقات کر کے ذمہ داروں کو انصاف کے کٹہرے میں لانے کا حکم دیا ہے۔
وزیراعلیٰ نے خبردار کیا کہ “کسی کو بھی معصوم لوگوں کی جان و مال سے کھیلنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی” اور تمام مجرموں کو قانون کے مطابق سزا دی جائے گی۔
