اسلام آباد: وفاقی حکومت نے عوام کو مہنگائی کے طوفان میں بڑی راحت فراہم کرتے ہوئے پٹرول اور ہائی اسپیڈ ڈیزل (ایچ ایس ڈی) کی قیمتوں میں 5 روپے فی لیٹر کی نمایاں کمی کا اعلان کر دیا ہے۔ وزارت پیٹرولیم کی جانب سے جاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق یہ نئی قیمتیں 16 مئی سے نافذ العمل ہوں گی۔
نئی قیمتیں اور معاشی اثرات
تازہ ترین کمی کے بعد پٹرول کی فی لیٹر قیمت 409.78 روپے جبکہ ڈیزل کی قیمت 409.58 روپے مقرر کر دی گئی ہے۔ یہ کمی ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب عالمی سطح پر خام تیل کی قیمتوں میں 3 فیصد سے زائد کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔
پٹرول بنیادی طور پر موٹر سائیکلوں، رکشوں اور چھوٹی گاڑیوں میں استعمال ہوتا ہے، اس لیے اس کی قیمت میں کمی کا براہ راست فائدہ متوسط اور نچلے طبقے کے گھریلو بجٹ کو پہنچے گا۔ دوسری جانب، ہائی اسپیڈ ڈیزل کا استعمال بھاری گاڑیوں، ٹرکوں، بسوں اور زرعی مشینری میں ہوتا ہے، جس کی وجہ سے یہ کمی اشیائے خوردونوش، خصوصاً سبزیوں کی قیمتوں میں استحکام کا باعث بن سکتی ہے۔
عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں اضافہ
دلچسپ بات یہ ہے کہ مقامی سطح پر قیمتوں میں یہ کمی اس وقت کی گئی جب بین الاقوامی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمتیں آسمان چھو رہی ہیں۔ برینٹ کروڈ فیوچر 3.17 فیصد بڑھ کر 109.07 ڈالر فی بیرل اور ڈبلیو ٹی آئی 3.81 فیصد اضافے سے 105.02 ڈالر فی بیرل پر ٹریڈ ہو رہا ہے۔ یہ اضافہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ایرانی وزیر خارجہ کے بیانات کے بعد ہوا، جس سے آبنائے ہرمز میں جہازوں پر حملوں کے خاتمے کے لیے معاہدے کی امیدیں دم توڑ گئیں۔
ہفتہ وار نظرثانی کا سلسلہ
یاد رہے کہ 28 فروری کو ایران کے ساتھ امریکی اسرائیلی تنازعے کے آغاز کے بعد سے حکومت پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کا ہفتہ وار جائزہ لے رہی ہے۔ گزشتہ ہفتے حکومت نے پٹرول کی قیمت میں 14.92 روپے اور ڈیزل میں 15 روپے کا بھاری اضافہ کیا تھا۔
ماہرین کے مطابق، آبنائے ہرمز کی بندش سے عالمی ایندھن کا بحران پیدا ہو گیا تھا کیونکہ امن کے اوقات میں دنیا کی پانچویں حصہ تیل و گیس کی سپلائی اسی راستے سے گزرتی ہے۔
