کنشاسا: خوفناک وائرس کی واپسی
جمہوری جمہوریہ کانگو میں ایبولا وائرس کی ایک نئی اور مہلک قسم نے خوف و ہراس پھیلا دیا ہے۔ عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) نے اتوار کے روز اس وبا کو “بین الاقوامی تشویش کی صحت عامہ کی ہنگامی صورتحال” قرار دے دیا ہے کیونکہ اب تک 80 سے زائد افراد اس موذی مرض کا شکار ہو کر جان کی بازی ہار چکے ہیں۔ حکام نے خبردار کیا ہے کہ اس مخصوص سٹرین کے لیے کوئی ویکسین موجود نہیں ہے، جس سے صورتحال مزید سنگین ہو گئی ہے۔
بنڈی بگیو سٹرین: جس کا کوئی علاج نہیں
افریقہ سینٹرز فار ڈیزیز کنٹرول اینڈ پریوینشن (سی ڈی سی افریقہ) کے مطابق، ہفتے تک 88 اموات اور 336 مشتبہ کیسز رپورٹ ہو چکے ہیں۔ اس وبا کی وجہ ایبولا کی بنڈی بگیو قسم ہے، جس کی پہلی بار 2007 میں شناخت ہوئی تھی۔ ڈی آر کانگو کے وزیر صحت سیموئل-راجر کامبا نے واضح کیا کہ اس سٹرین کے لیے نہ تو کوئی ویکسین ہے اور نہ ہی کوئی مخصوص علاج۔ انہوں نے کہا کہ اس کی شرح اموات انتہائی بلند ہے، جو 50 فیصد تک پہنچ سکتی ہے۔
طبی امدادی تنظیم ڈاکٹرز ودآؤٹ بارڈرز (ایم ایس ایف) نے اس تیزی سے پھیلتی وبا کو “انتہائی تشویشناک” قرار دیتے ہوئے بڑے پیمانے پر ردعمل کی تیاری شروع کر دی ہے۔ یہ صورتحال اس لیے بھی خطرناک ہے کیونکہ ویکسین صرف زائر سٹرین کے لیے دستیاب ہے، جو 1976 میں دریافت ہوا تھا اور جس کی شرح اموات 60 سے 90 فیصد تک ہوتی ہے۔
سرحد پار پھیلاؤ اور مقامی خوف
یہ وبا شمال مشرقی صوبے ایتوری میں پھوٹی، جس کی سرحدیں یوگنڈا اور جنوبی سوڈان سے ملتی ہیں۔ ہفتے کے روز حکام نے بتایا کہ پڑوسی ملک یوگنڈا میں بھی ایک کانگولی شہری اسی سٹرین سے ہلاک ہو گیا ہے، جس سے سرحد پار پھیلاؤ کے خدشات بڑھ گئے ہیں۔
مقامی سطح پر حالات قابو سے باہر ہیں۔ ایتوری کے شہری نمائندے اسحاق نیاکولنڈا نے بتایا کہ گزشتہ دو ہفتوں سے لوگ مسلسل مر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مریضوں کو الگ تھلگ کرنے کی کوئی جگہ نہیں ہے، وہ گھروں میں دم توڑ رہے ہیں اور ان کی لاشیں ان کے اہل خانہ سنبھال رہے ہیں۔
صفر مریض اور وبا کا آغاز
وزیر صحت کامبا کے مطابق، اس وبا کا پہلا مریض ایک نرس تھی جس نے 24 اپریل کو بونیا کے ایک ہسپتال میں ایبولا جیسی علامات کے ساتھ رپورٹ کیا۔ اس مرض کی علامات میں تیز بخار، خون کا بہنا اور قے شامل ہیں۔ ڈبلیو ایچ او نے خبردار کیا ہے کہ متاثرہ افراد کی اصل تعداد اور جغرافیائی پھیلاؤ کے بارے میں اہم غیر یقینی صورتحال پائی جاتی ہے، لیکن ابتدائی نمونوں میں مثبت آنے کی بلند شرح ظاہر کرتی ہے کہ یہ وبا موجودہ رپورٹ سے کہیں زیادہ بڑی ہو سکتی ہے۔
نقل و حمل کے چیلنجز اور تاریخ
ڈی آر کانگو جیسے وسیع و عریض ملک میں، جہاں مواصلاتی ڈھانچہ انتہائی کمزور ہے، بڑے پیمانے پر طبی سازوسامان کی ترسیل ایک بڑا چیلنج ہے۔ یہ ڈی آر کانگو میں ایبولا کی 17ویں وبا ہے۔ اس سے قبل گزشتہ اگست میں وسطی علاقے میں پھوٹنے والی وبا میں کم از کم 34 افراد ہلاک ہوئے تھے، جسے دسمبر میں ختم ہونے کا اعلان کیا گیا تھا۔ 2018 سے 2020 کے درمیان ڈی آر کانگو میں آنے والی مہلک ترین وبا میں تقریباً 2,300 افراد لقمہ اجل بنے تھے۔
