واشنگٹن/تہران: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ ایران کے ساتھ جاری تنازعے کو فوری طور پر ختم کرنے میں کوئی جلدی نہیں دکھا رہے، بلکہ مشن کے مقاصد کا حصول ان کی اولین ترجیح ہے۔ یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب خطے میں کشیدگی برقرار ہے اور سفارتی کوششیں بھی جاری ہیں۔
دوسری جانب ایران کی سپریم لیڈر شپ کی جانب سے مزاحمت کے بیانات سامنے آئے ہیں۔ آیت اللہ خامنہ ای کے صاحبزادے مجتبیٰ خامنہ ای نے کہا ہے کہ ایران امریکہ اور اسرائیل کے خلاف ‘منفرد’ مزاحمت کا مظاہرہ کر رہا ہے۔ ان کا یہ بیان ایرانی قیادت کے عزم کی عکاسی کرتا ہے۔
ٹرمپ کا دو ٹوک موقف: بحریہ اور فضائیہ ختم، اب آگے کیا؟
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے یو ایس کوسٹ گارڈ اکیڈمی میں خطاب کرتے ہوئے ایران کی عسکری صلاحیتوں کے بارے میں سخت دعوے کیے۔ انہوں نے کہا، “سب کچھ ختم ہو چکا ہے۔ ان کی بحریہ ختم، فضائیہ ختم، تقریباً سب کچھ۔ اب صرف ایک سوال یہ ہے کہ کیا ہم جا کر اس کام کو مکمل کریں یا وہ کسی دستاویز پر دستخط کریں گے؟” ٹرمپ کے اس بیان نے عالمی سطح پر ہلچل مچا دی ہے اور یہ واضح کر دیا ہے کہ واشنگٹن فوجی آپشن کو ابھی مسترد نہیں کر رہا۔
پاکستان کی مصالحانہ کوششیں: محسن نقوی کا تہران کا دوسرا دورہ
وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے ایک ہفتے سے بھی کم وقت میں تہران کا دوسرا دورہ کیا ہے۔ اس دوران انہوں نے ایرانی سول اور عسکری قیادت سے ملاقاتیں کیں۔ اطلاعات کے مطابق محسن نقوی نے ایرانی وزیر داخلہ اسکندر مومنی کے علاوہ پاسداران انقلاب (آئی آر جی سی) کے کمانڈر انچیف جنرل احمد واحدی سے بھی ملاقات کی۔ یہ ملاقاتیں پاکستان کی جانب سے ثالثی کی کوششوں کے تسلسل کی نشاندہی کرتی ہیں۔
اسلام آباد میں مذاکرات کا دوسرا دور متوقع
ذرائع کے مطابق واشنگٹن اور تہران کے درمیان معاہدے کے متن کو حتمی شکل دینے پر کام جاری ہے۔ العربیہ اور الحدث کی رپورٹ کے مطابق حج کے سیزن کے بعد اسلام آباد میں امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات کا دوسرا دور منعقد ہونے کی توقع ہے۔ ذرائع کا یہ بھی کہنا ہے کہ معاہدے کے حتمی ورژن کا اعلان چند گھنٹوں میں ہو سکتا ہے۔
سعودی عرب اور عالمی برادری کا ردعمل
سعودی وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان نے صدر ٹرمپ کے مذاکرات کے لیے مزید وقت دینے کے فیصلے کا خیرمقدم کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور قطر نے ایران پر حملہ ملتوی کرنے کی درخواست کی تھی تاکہ مذاکرات کا موقع دیا جا سکے۔
ادھر اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس نے آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کی آزادی پر زور دیا ہے۔ یہ بیان ایسے وقت میں آیا ہے جب ایرانی پاسداران انقلاب کی بحریہ نے دعویٰ کیا ہے کہ گزشتہ 24 گھنٹوں میں 26 تجارتی اور تیل بردار بحری جہاز ایران کے تعاون سے آبنائے ہرمز سے گزرے ہیں۔
خوراک کے عالمی بحران کا خطرہ
اقوام متحدہ کے ادارے فوڈ اینڈ ایگریکلچر آرگنائزیشن (ایف اے او) نے خبردار کیا ہے کہ آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی آنے والے مہینوں میں “شدید عالمی غذائی قیمتوں کے بحران” کو جنم دے سکتی ہے۔ ایف اے او کے مطابق عالمی کھاد کی ایک تہائی سپلائی بھی اسی آبنائے سے گزرتی تھی، جس کی بندش سے کسانوں کو شدید مشکلات کا سامنا ہو سکتا ہے۔ ادارے نے متبادل زمینی اور بحری راستوں پر توجہ دینے اور غذائی امداد پر تجارتی پابندیاں نہ لگانے کی اپیل کی ہے۔
واضح رہے کہ امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) نے ایران کے خلاف بحری ناکہ بندی کے نفاذ کی ایک ویڈیو بھی جاری کی ہے، جس سے کشیدگی کی فضا میں مزید اضافہ ہوا ہے۔
