تہران/واشنگٹن: مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے درمیان امریکا اور ایران کے مابین ممکنہ جنگ بندی اور مذاکرات کی راہ ہموار کرنے کے لیے پاکستان نے سفارتی محاذ پر اہم پیش قدمی کی ہے۔ وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے تہران میں ایرانی سول اور عسکری قیادت سے اہم ملاقاتیں کی ہیں، جبکہ دوسری جانب خلیجی ممالک پر ڈرون حملوں کی مذمت بھی کی گئی ہے۔
آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی، عالمی غذائی بحران کا انتباہ
اقوام متحدہ کے ادارے فوڈ اینڈ ایگریکلچر آرگنائزیشن (ایف اے او) نے خبردار کیا ہے کہ آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی آنے والے مہینوں میں “شدید عالمی غذائی قیمتوں کے بحران” کو جنم دے سکتی ہے۔ امریکا اور اسرائیل کے ایران پر حملوں کے بعد تہران نے اس آبی گزرگاہ کو ٹینکر اور کارگو ٹریفک کے لیے مؤثر طریقے سے بند کر دیا ہے۔ عالمی کھاد کی ایک تہائی سپلائی بھی جنگ سے پہلے اسی آبنائے سے گزرتی تھی، جس کے باعث موسم گرما میں کاشتکاروں کو قلت کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
ایرانی مزاحمت اور علاقائی تناؤ
ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ مجتبیٰ خامنہ ای نے کہا ہے کہ ملک “دو عالمی دہشت گرد فوجوں کے خلاف منفرد تاریخی مزاحمت” کر رہا ہے۔ دوسری جانب متحدہ عرب امارات نے عراق پر زور دیا ہے کہ وہ اپنی سرزمین سے ہونے والی معاندانہ کارروائیوں کو روکے۔ یہ بیان براکہ نیوکلیئر پاور پلانٹ پر ڈرون حملے کے بعد سامنے آیا ہے، جس کے بارے میں یو اے ای کی وزارت دفاع کا کہنا ہے کہ ڈرون عراق سے لانچ کیا گیا تھا۔
پاکستان کا ثالثانہ کردار اور محسن نقوی کی مصروفیات
وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے ایک ہفتے سے بھی کم وقت میں تہران کا دوسرا دورہ کیا ہے۔ ایرانی میڈیا کے مطابق، انہوں نے اپنے ایرانی ہم منصب اسکندر مومنی اور پاسداران انقلاب (آئی آر جی سی) کے کمانڈر انچیف جنرل احمد واحدی سے ملاقات کی۔ ذرائع کے مطابق، محسن نقوی کا یہ دورہ امریکا ایران امن مذاکرات پر بات چیت کے لیے تھا، جس میں اسلام آباد ثالث کا کردار ادا کر رہا ہے۔
آبنائے ہرمز میں آمد و رفت جاری
آئی آر جی سی کی بحریہ نے بدھ کو بتایا کہ گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران 26 بحری جہاز، جن میں آئل ٹینکرز، کنٹینر شپس اور دیگر تجارتی جہاز شامل ہیں، ایران کے ساتھ ہم آہنگی سے آبنائے ہرمز سے گزرے ہیں۔ بحریہ نے مزید کہا کہ آبی گزرگاہ سے ٹرانزٹ کا عمل جاری ہے اور اس کے لیے اجازت نامے حاصل کیے جا رہے ہیں۔
عالمی برادری کی اپیل اور سلامتی کونسل کا اجلاس
اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل نے آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کی آزادی کی اپیل کی ہے۔ دوسری جانب ایران نے ابھی تک یہ فیصلہ نہیں کیا کہ اس کا وزیر خارجہ 26 مئی کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے اجلاس میں شرکت کرے گا یا نہیں۔ ترجمان اسماعیل بقائی کے مطابق، چین کی صدارت میں ہونے والے اس خصوصی اجلاس میں شرکت کی دعوت دی گئی ہے۔
