تہران اور واشنگٹن کے درمیان جاری خلیجی بحران کے خاتمے کے لیے ایک ممکنہ مفاہمتی یادداشت (ایم او یو) پر بات چیت جاری ہے، تاہم ایرانی حکام نے واضح کیا ہے کہ ابھی تک کوئی حتمی معاہدہ طے نہیں پایا اور نہ ہی اس کے فوری امکانات ہیں۔ ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے پیر کو ایک پریس کانفرنس میں بتایا کہ مجوزہ 14 نکاتی یادداشت کا بنیادی مقصد جنگ بندی، امریکی بحری ناکہ بندی کا خاتمہ، اور آبنائے ہرمز میں محفوظ جہاز رانی کو یقینی بنانا ہے۔
جوہری مذاکرات کا انحصار مفاہمتی یادداشت پر
بقائی نے زور دے کر کہا کہ اگر یہ مفاہمتی یادداشت حتمی شکل اختیار کر لیتی ہے تو اس کے بعد 60 روزہ مدت کے دوران معاہدے کی مخصوص تفصیلات اور دیگر مسائل بشمول ایران کے جوہری پروگرام پر مزید مذاکرات کیے جائیں گے۔ ایرانی سفارت کار حسین نوش آبادی نے بھی آئی ایس این اے نیوز ایجنسی کو بتایا کہ اگر امریکہ اپنے وعدے پورے کرتا ہے تو ایران اپنے جوہری پروگرام اور اعلیٰ سطح پر افزودہ یورینیم کے ذخائر پر بات کرنے کے لیے تیار ہے، جس کے بدلے میں پابندیوں کا خاتمہ اور ایرانی غیر ملکی اثاثوں کی رہائی ہوگی۔
اسرائیلی مداخلت کا خدشہ
ادھر، ایرانی ترجمان نے جاری مذاکرات کو سبوتاژ کرنے کی اسرائیلی کوششوں پر تشویش کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ “صیہونی حکومت اس معاہدے کو کمزور کرنے کی بھرپور کوشش کر رہی ہے اور ہمیں توقع ہے کہ اسرائیل پورے مذاکراتی عمل کو دہرانے کے لیے کچھ اقدامات کر سکتا ہے۔” انہوں نے مزید کہا کہ جنگ اور دشمنی کا مطالبہ کرنے والے ممالک، بشمول اسرائیل، میڈیا میں نمایاں ہیں اور ان کا اثر امریکی حکام پر پڑ سکتا ہے۔
آبنائے ہرمز: ٹول نہیں، خدمات کے معاوضے
آبنائے ہرمز کے انتظام کے حوالے سے ایرانی موقف واضح کرتے ہوئے بقائی نے کہا کہ اس اسٹریٹجک آبی گزرگاہ کا انتظام ساحلی ممالک کا حق ہے۔ انہوں نے واضح الفاظ میں کہا کہ ایران آبنائے ہرمز سے گزرنے والے بحری جہازوں پر کوئی ٹول یا ٹیکس عائد نہیں کرے گا۔ تاہم، انہوں نے یہ ضرور کہا کہ خطے میں فراہم کی جانے والی بعض خدمات کے معاوضے لیے جا سکتے ہی، لیکن انہیں ٹرانزٹ ٹول کے طور پر پیش نہیں کیا جانا چاہیے۔
علاقائی کشیدگی برقرار
دریں اثنا، خطے میں کشیدگی بدستور جاری ہے۔ جنوبی لبنان میں اسرائیلی ڈرون حملوں میں تین افراد ہلاک ہو گئے، جس کے بعد اسرائیلی فوج نے جنوبی لبنان کے 10 دیہات کے رہائشیوں کو ممکنہ حملوں سے قبل علاقہ خالی کرنے کی دھمکی دی ہے۔ لبنانی صدر جوزف عون نے یوم مزاحمت اور آزادی کے موقع پر کہا کہ مکمل اسرائیلی انخلاء ایک قومی مطالبہ ہے، جسے مذاکرات کے ذریعے حاصل کیا جائے گا۔
دوسری جانب، ایرانی سرکاری میڈیا نے جنوری میں ہونے والے ملک گیر حکومت مخالف مظاہروں میں ملوث ایک شخص کو پھانسی دیے جانے کی اطلاع دی ہے۔
