کوئٹہ: صوبائی حکومت کے ترجمان کے مطابق، اتوار کو کوئٹہ میں چمن پھاٹک کے قریب ریلوے ٹریک کے پاس ہونے والے ایک دھماکے میں کم از کم 14 افراد شہید ہو گئے، جن میں فرنٹیئر کور (ایف سی) کے تین اہلکار بھی شامل ہیں۔ دھماکے میں متعدد خواتین اور بچے بھی زخمی ہوئے، جنہیں فوری طور پر علاج کے لیے اسپتالوں میں منتقل کر دیا گیا ہے۔
بلوچستان حکومت کے ترجمان شاہد رند نے ایک بیان میں بتایا کہ دہشت گردوں نے اس حملے میں غیر مسلح شہریوں کو نشانہ بنایا ہے۔ انہوں نے عوامی مقامات پر حملوں کو عسکریت پسند عناصر کی بے بسی کی علامت قرار دیا۔
ترجمان کے مطابق، سیکیورٹی فورسز نے علاقے کو گھیرے میں لے لیا ہے اور حکام شواہد اکٹھے کرنے اور واقعے کی تحقیقات میں مصروف ہیں۔ شاہد رند نے مزید کہا کہ شواہد کا جمع کرنا اور تفتیش کا عمل جاری ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ عوامی مقامات کو نشانہ بنانا دہشت گرد عناصر کی مایوسی کو ظاہر کرتا ہے۔
کوئٹہ بھر کے اسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ
اس واقعے کے بعد کوئٹہ بھر کے سرکاری اسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ کر دی گئی ہے اور ڈاکٹروں و طبی عملے کو فوری طور پر طلب کر لیا گیا ہے تاکہ صورتحال سے مؤثر طریقے سے نمٹا جا سکے۔
ریلوے حکام نے بتایا کہ دھماکے کے بعد احتیاطی تدبیر کے طور پر پشاور جانے والی جعفر ایکسپریس کو کوئٹہ ریلوے اسٹیشن پر روک دیا گیا ہے۔
وزیر داخلہ کے ترجمان بابر یوسفزئی نے بتایا کہ شہر میں ہونے والے دھماکے کے بعد تمام متعلقہ اداروں کو ہائی الرٹ کر دیا گیا ہے۔ انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ وہ دھماکے کی جگہ کے قریب جمع نہ ہوں تاکہ حفاظت کو یقینی بنایا جا سکے اور امدادی ٹیموں کو بغیر کسی رکاوٹ کے ریسکیو آپریشن جاری رکھنے کا موقع ملے۔
بعد ازاں، وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کوئٹہ پہنچے اور وزیراعلیٰ بگٹی کے ساتھ مشترکہ طور پر ایک اجلاس کی صدارت کی، جیسا کہ وزارت داخلہ کی جانب سے جاری بیان میں بتایا گیا۔ اس اجلاس کے دوران بلوچستان پولیس کے سربراہ نے دھماکے کی ابتدائی تحقیقاتی رپورٹ پر شرکا کو بریفنگ دی۔
صدر اور وزیراعظم کی شدید مذمت
دریں اثنا، صدر آصف علی زرداری اور وزیراعظم شہباز شریف نے اس “گھناؤنے” دھماکے کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ دہشت گردی کی ایسی کارروائیوں کا مقصد پاکستان کے عوام کو نقصان پہنچانا اور عالمی امن کے لیے ملک کی کوششوں سے توجہ ہٹانا ہے۔
صدر مملکت نے اپنے مذمتی پیغام میں کہا کہ پاکستان کے خلاف عناصر ان اقدامات کو کمزور کرنے کی کوشش کر رہے ہیں جو وسیع تر انسانی مقاصد، عالمی امن اور ترقی کے لیے کیے جا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس میں کوئی شک نہں ہونا چاہیے کہ پاکستان دہشت گردوں، ان کے سہولت کاروں، مالی معاونین اور انہیں محفوظ پناہ گاہیں فراہم کرنے والوں کو شکست دے گا۔
وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ “دہشت گردی کی ایسی بزدلانہ کارروائیاں پاکستانی عوام کے عزم کو کمزور نہیں کر سکتیں۔ ہم دہشت گردی کو اس کی تمام شکلوں اور صورتوں میں ختم کرنے کے اپنے عزم پر قائم ہیں۔” انہوں نے جاں بحق افراد کے اہل خانہ سے دلی تعزیت کا اظہار کیا اور زخمیوں کی جلد صحت یابی کے لیے دعا کی، ساتھ ہی کہا کہ اس غم کی گھڑی میں پوری قوم بلوچستان کے عوام کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کرتی ہے۔
ریلوے کے وزیر حنیف عباسی نے بھی دھکے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ بھارت اور افغانستان میں موجود عناصر دہشت گردی کی سرپرستی میں ملوث ہیں۔ انہوں نے عزم ظاہر کیا کہ دہشت گرد نیٹ ورک اپنے مذموم عزائم میں کبھی کامیاب نہیں ہوں گے۔ وزیر نے مزید بتایا کہ دھماکے کے نتیجے میں انجن اور تین بوگیاں پٹڑی سے اتر گئیں۔ عباسی نے ریلوے انتظامیہ کو واقعے کی فوری رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت بھی دی ہے۔
