آسٹریلوی کرکٹر ٹریوس ہیڈ اور ان کی اہلیہ جیسیکا کو انڈین پریمیئر لیگ (آئی پی ایل) کے ایک میچ کے دوران بھارتی کرکٹ آئیکون ویرات کوہلی کے ساتھ تلخ کلامی کے بعد شدید آن لائن ہراسانی کا نشانہ بنایا گیا ہے۔ یہ واقعہ جمعہ کو سن رائزرز حیدرآباد اور رائل چیلنجرز بنگلور کے درمیان ٹی ٹوئنٹی مقابلے کے دوران پیش آیا۔
میدان میں تلخ کلامی اور ہاتھ ملانے سے انکار
میدان میں دونوں کھلاڑیوں کے درمیان گرما گرم الفاظ کا تبادلہ ہوا، جس کے بعد کوہلی صرف 15 رنز بنا کر آؤٹ ہو گئے اور ان کی ٹیم کو 55 رنز کی بھاری شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ میچ کے اختتام پر جب دونوں ٹیموں کے کھلاڑی مصافحے کے لیے قطار میں کھڑے تھے، تو کوہلی نے ٹریوس ہیڈ کے بڑھائے ہوئے ہاتھ کو نظر انداز کر دیا، تاہم انہوں نے دیگر کھلاڑیوں سے مصافحہ کیا۔
وشل میڈیا پر حملوں کی بوچھاڑ
اس واقعے کے فوراً بعد، بظاہر سابق بھارتی کپتان کے مداحوں نے ٹریوس ہیڈ اور جیسیکا کے انسٹاگرام اکاؤنٹس پر نازیبا اور ہتک آمیز تبصروں کی بوچھاڑ کر دی۔
جیسیکا ہیڈ کا ردعمل
جیسیکا ہیڈ نے دی ایڈورٹائزر اخبار کو بتایا کہ ان کے دوستوں اور اہل خانہ کو بھی نفرت انگیز نجی پیغامات موصول ہوئے ہیں۔ انہوں نے پیر کو کہا، “میری نیند سوشل میڈیا پر حملوں کی آواز سے کھلی۔ ہم تو ٹھیک ہیں لیکن وہ میرے دوستوں اور خاندان والوں کو نشانہ بنا رہے ہیں۔”
انہوں نے مزید کہا، “جذبہ ہمیشہ کھیل کا حصہ رہے گا، لیکن یہ یاد رکھنا بھی ضروری ہے کہ اس کھیل کے پیچھے حقیقی انسان اور خاندان موجود ہیں۔ امید ہے کہ یہ واقعہ مزید مہربانی اور ایک دوسرے کی حمایت کی ترغیب دے گا۔”
جیسیکا نے اس صورتحال کو 2023 کے ون ڈے ورلڈ کپ کے بعد ہونے والی ہراسانی سے تشبیہ دی، جب آسٹریلیا نے میزبان بھارت کو احمد آباد میں فائنل میں شکست دی تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ “ورلڈ کپ کے بعد ہونے والی زیادتی کا اعادہ” محسوس ہوتا ہے۔
